Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 18:80 Prev 18:78


Arabic

أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتۡ لِمَسَٰكِينَ يَعۡمَلُونَ فِي ٱلۡبَحۡرِ فَأَرَدتُّ أَنۡ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٞ يَأۡخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصۡبٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا


English (Sahih International)

As for the ship, it belonged to poor people working at sea. So I intended to cause defect in it as there was after them a king who seized every [good] ship by force


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 79 اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ يَعْمَلُوْنَ فِي الْبَحْرِ وہ بہت غریب اور نادار لوگ تھے صرف وہ کشتی ہی ان کے معاش کا سہارا تھی۔ اس کے ذریعے وہ لوگوں کو دریا کے آر پار لے جاتے اور اس مزدوری سے اپنا پیٹ پالتے تھے۔فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِيْبَهَا وَكَانَ وَرَاۗءَهُمْ مَّلِكٌ يَّاْخُذُ كُلَّ سَفِيْنَةٍ غَصْبًابادشاہ ہر اس کشتی کو اپنے قبضے میں لے لیتا تھا جو صحیح وسالم ہوتی تھی۔ ان نادار لوگوں کی کشتی بھی اگر بےعیب ہوتی تو بادشاہ ان سے زبردستی چھین لیتا۔ چناچہ میں نے اس کا ایک تختہ توڑ کر اسے عیب دار کردیا۔ اب جب بادشاہ اس عیب دار کشتی کو دیکھے گا تو اسے چھوڑ دے گا اور اس طرح ان کی روزی کا واحد سہارا ان سے نہیں چھنے گا۔ پوری کشتی چھن جانے کے مقابلے میں ایک تختے کا ٹوٹ جانا تو معمولی بات ہے۔ اس تختے کی وہ لوگ آسانی سے مرمت کرلیں گے اور یوں وہ کشتی ان کی روزی کا ذریعہ بنی رہے گی۔ لہٰذا وہ تختہ ان لوگوں کی بھلائی کے لیے توڑا گیا تھا نہ کہ کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

حضرت خضر نے کشتی کو بیکار نہیں کیا تھا بلکہ وقتی طورپر اس کو عیب دار بنا دیا۔ اس کی مصلحت یہ تھی کہ کشتی جس طرف جارہی تھی اس طرف آگے ایک بادشاہ تھا جو غالباً اپنی کسی جنگی مہم کے لیے اچھی کشتیوں کو زبردستی اپنے قبضہ میں لے رہا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس کو ایسا بنا دیا کہ بادشاہ کے کارندے اس کو دیکھیں تو اس کو ناقابلِ توجہ سمجھ کر اسے چھوڑ دیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ بددل نہ ہو۔ وہ یہ سوچ کر اس پر راضی ہوجائے کہ خدا نے جو کچھ کیا ہے اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ چھپا ہوگا، اگر چہ وہ ابھی اس سے پوری طرح باخبر نہیں۔


Connections

  • Previous: 18_78
  • Next: 18_80
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes