Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا رَكِبَا فِي ٱلسَّفِينَةِ خَرَقَهَاۖ قَالَ أَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ أَهۡلَهَا لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔا إِمۡرٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ ایک کشتی میں سوار ہو گئے تو اس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا موسیٰؑ نے کہا “آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کر ڈالی
English (Sahih International)
So they set out, until when they had embarked on the ship, al-Khidh r tore it open. [Moses] said, “Have you torn it open to drown its people? You have certainly done a grave thing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 71 فَانْطَلَقَا ۪حَتّٰٓي اِذَا رَكِبَا فِي السَّفِيْنَةِ خَرَقَهَاحضرت موسیٰ نے ان کی سوال نہ کرنے والی شرط تسلیم کرلی اور یوں وہ دونوں سفر پر روانہ ہوگئے۔ جب وہ دریا پار کرنے کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں ان کو صاحب موسیٰ کہیں یا حضرت خضر کہیں نے بیٹھتے ہی کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا۔ حضرت موسیٰ نے جب یہ دیکھا تو آپ کہاں خاموش رہنے والے تھے فوراً ان کو ٹوک دیا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 71 to 74.
اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔
اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔