Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَلَعَلَّكَ بَٰخِعٞ نَّفۡسَكَ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمۡ إِن لَّمۡ يُؤۡمِنُواْ بِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَسَفًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اچھا، تو اے محمدؐ، شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے
English (Sahih International)
Then perhaps you would kill yourself through grief over them, [O Muhammad], if they do not believe in this message, [and] out of sorrow
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 6 فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًاتثلیث جیسے غلط عقائد کے جو بھیانک نتائج مستقبل میں نسل انسانی کے لیے متوقع تھے ان کے تصور اور ادراک سے رسول اللہ پر شدید دباؤ تھا۔ آپ خوب سمجھتے تھے کہ اگر یہ لوگ قرآن پر ایمان نہ لائے اور اپنے موجودہ مذہب پر ہی قائم رہے تو ان کے غلط عقائد کے سبب دنیا میں دجالیت کا فتنہ جنم لے گا جس کے اثرات نسل انسانی کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ یہی غم تھا جو آپ کی جان کو گھلائے جا رہا تھا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 6 to 8.
شاید تم اپنے کو ہلاک کرڈالو گے— یہ جملہ بتاتا ہے کہ داعی اگر دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتو شدت احساس سے اس کا کیا حال ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوتِ حق کا اتمام اس انتہا پر پہنچ کر ہوتا ہے جب یہ کہا جانے لگے کہ داعی شاید اس غم میں اپنے کو ہلاک کرلے گا کہ لوگ حق کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔
ایک دعوت جو دلیل کے اعتبار سے انتہائی واضح ہو، جس کو پیش کرنے والا درد مندی کی آخری حد پر پہنچ کر اس کو لوگوں کے لیے سنجیدہ غور وفکر کا موضوع بنا دے، اس کے باوجود لوگ اسے نہ مانیں تو اس نہ ماننے کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ دنیا کی دل فریبیاں ہیں۔ موجودہ دنیا اتني پُر کشش ہے کہ آدمی اس سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ اس لیے وہ ایسی دعوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا جو اس کی توجہات کو سامنے کی دنیا سے ہٹا کر اس دنیا کی طرف لے جار ہی ہے جس کی رونقیں بظاہر دکھائی نہیں دیتیں۔
مگر زمین کی دل فریبیاں انتہائی عارضی ہیں۔ وہ امتحان کی ایک مقرر مدت تک ہیں۔ اس کے بعد زمین کی یہ حیثیت ختم کردی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ صحراکی طرح بس ایک خشک میدان ہو کر رہ جائے گی۔