Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَرَبُّكَ ٱلۡغَفُورُ ذُو ٱلرَّحۡمَةِۖ لَوۡ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُواْ لَعَجَّلَ لَهُمُ ٱلۡعَذَابَۚ بَل لَّهُم مَّوۡعِدٞ لَّن يَجِدُواْ مِن دُونِهِۦ مَوۡئِلٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے وہ ان کے کرتوتوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے
English (Sahih International)
And your Lord is the Forgiving, full of mercy. If He were to impose blame upon them for what they earned, He would have hastened for them the punishment. Rather, for them is an appointment from which they will never find an escape
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 58 وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذو الرَّحْمَةِ ۭ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ یہ مضمون سورة النحل آیت 61 اور سورة فاطر آیت 45 میں بھی بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم اور برے اعمال کے سبب ان کا مؤاخذہ کرتا تو روئے زمین پر کوئی متنفس زندہ نہ بچتا۔بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْىِٕلًاجب کسی کے وعدے کی مقررہ گھڑی اجل آپہنچے گی تو اسے کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی اور اس کے لیے اس سے سرک کر ادھر ادھر ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی : فَاِذَاجَآءَ اَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلاَ یَسْتَقْدِمُوْنَ النحل ”پھر جب آجاتا ہے ان کا وقت معین تو نہ وہ پیچھے رہ سکتے ہیں ایک لمحہ اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 58 and 59.
آدمی حق کے مقابلہ میں سرکشی کرتاہے تو اس کو فوراً اس کی سزا نہیں ملتی۔ اس سے غلط فہمی میں پڑ کر وہ اپنے کو آزاد سمجھ لیتاہے اور مزید سرکشی کرنے لگتا ہے۔ حالاں کہ یہ نہ پکڑا جانا، امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے، نہ کہ آزادی اور خود مختاری کی بنا پر۔
آدمی سبق لینا چاہے تو ماضی کا انجام اس کے سامنے موجود ہے جس سے وہ حال کے لیے سبق لے سکتاہے۔ سطح زمین پر بار بار مختلف قومیں اور تہذیبیں ابھر ی ہیں اور تباہ کردی گئی ہیں۔ جب پچھلی نسلوں کے ساتھ ایسا ہوا کہ انھیں ان کی سرکشی کی سزا ملی تو اگلی نسلوں کے ساتھ یہی واقعہ کیوں نہیں ہوگا۔