Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۚ وَيُجَٰدِلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ لِيُدۡحِضُواْ بِهِ ٱلۡحَقَّۖ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَٰتِي وَمَآ أُنذِرُواْ هُزُوٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
رسولوں کو ہم اس کام کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دے دیں مگر کافروں کا حال یہ ہے کہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہوں نے میری آیات کو اور اُن تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنا لیا ہے
English (Sahih International)
And We send not the messengers except as bringers of good tidings and warners. And those who disbelieve dispute by [using] falsehood to [attempt to] invalidate thereby the truth and have taken My verses, and that of which they are warned, in ridicule
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 56 وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ یہ مضمون جو یہاں سب رسولوں کے متعلق جمع کے صیغے میں آیا ہے سورة بنی اسرائیل میں حضور کے لیے صیغۂ واحد میں یوں آیا ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ الاَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا ”اور اے محمد ! ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر مبشر اور نذیر بنا کر۔“وَيُجَادِلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ یہ لوگ باطل کے ساتھ کھڑے ہو کر حق کو شکست دینے کے لیے مناظرے اور کٹ حجتیاں کر رہے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 56 and 57.
خدا کی بات سب سے زیادہ سچی بات ہے۔ تمام بہترین دلائل اس کی موافقت کرتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ کوئی حقیقی دلیل نہیں پاتے جس کے ذریعہ وہ اسے رد کرسکیں۔ ان کے پاس ہمیشہ صرف بے اصل باتیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اس کو زیر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔وہ ٹھوس دلائل کا مقابلہ جھوٹے اعتراضات سے کرتے ہیں۔ وہ سنجیدہ کام کو مذاق میں گم کردینا چاہتے ہیں۔
یہ سب وہ اس لیے کرتے ہیں کہ داعی کو عوام کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرسکیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرکے وہ خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کررہے ہیں۔
آدمی کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ مگر جب وہ اپنی سوجھ بوجھ کو غلط رخ پر استعمال کرتاہے تو اس کا ذہن اسی غلط رخ پر چل پڑتاہے جس رخ پر اس نے اس کو چلایا ہے۔ اس کے بعد اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ کسی بات کو اس کے صحیح رخ سے دیکھے۔ اور اس کی واقعی اہمیت کو سمجھ سکے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بے آنکھ ہوجاتاہے۔ وہ کان رکھتے ہوئے بے کان ہوجاتاہے۔