Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 18:55 Prev 18:53


Arabic

وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَكۡثَرَ شَيۡءٖ جَدَلٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے


English (Sahih International)

And We have certainly diversified in this Qur’an for the people from every [kind of] example; but man has ever been, most of anything, [prone to] dispute


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 54 وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ للنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ آیت سورة بنی اسرائیل میں بھی آیت 89 موجود ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًاسورۂ بنی اسرائیل کی آیت 89 کے پہلے حصے کے الفاظ جوں کے توں وہی ہیں جو اس آیت کے پہلے حصے کے ہیں صرف لفظوں کی ترتیب میں معمولی سا فرق ہے۔ البتہ دونوں آیات کے آخری حصوں کے الفاظ مختلف ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت کا آخری حصہ یوں ہے : فَاَبآی اَکْثَرُ النَّاس الاَّ کُفُوْرًا ”مگر اکثر لوگ کفران نعمت پر ہی اڑے رہتے ہیں۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 54 and 55.

موجودہ دنیا میں امتحان کی آزادی ہے۔ اس بنا پر یہاں آدمی حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی عذر پالیتاہے۔ ہر بات کو رد کرنے کے لیے اس کو کچھ نہ کچھ الفاظ مل جاتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک کھلی ہوئی دلیل کو بے معنی بحثوں سے کاٹنے کی کوشش کرتاہے۔ کبھی وہ ایسا کرتاہے کہ جو دلیل دی گئی ہے اس کو نظر انداز کرکے ایک اور چیز کا تقاضا کرتاہے جو کسی وجہ سے ابھی پیش نہیں کی گئی۔

اس آخری صورت کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر نے اپنے مخاطبین کے سامنے واضح دلائل کے ساتھ اپنا پیغام پیش کیا تو انھوںنے اس پر دھیان نہیں دیا بلکہ اس سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ کہا کہ انکار کی صورت میں تم ہم کو جس عذاب کی خبر دے رہے ہو وہ کہاں ہے، اس کو لا کر ہمیں دکھاؤ۔


Connections

  • Previous: 18_53
  • Next: 18_55
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes