Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 18:53 Prev 18:51


Arabic

وَيَوۡمَ يَقُولُ نَادُواْ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُمۡ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُم مَّوۡبِقٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پھر کیا کریں گے یہ لوگ اُس روز جبکہ اِن کا رب اِن سے کہے گا کہ پکارو اب اُن ہستیوں کو جنہیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے یہ ان کو پکاریں گے، مگر وہ اِن کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کر دیں گے


English (Sahih International)

And [warn of] the Day when He will say, “Call ‘My partners’ whom you claimed,” and they will invoke them, but they will not respond to them. And We will put between them [a valley of] destruction


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 52 and 53.

فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًایہ شریک ٹھہرائی جانے والی شخصیات چاہے انبیاء ہوں اولیاء اللہ ہوں یا فرشتے روز قیامت ان کے اور انہیں شریک ماننے والوں کے درمیان ہلاکت خیز خلیج حائل کردی جائے گی تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ وہ ان کی مدد کو نہیں آسکتے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 52 and 53.

دنیا میں جن شخصیتوں کے بل پر آدمی حق کا انکار کرتاہے، قیامت میں وہ اس کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ آج وہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں مگر جب حقائق کھلیں گے تو دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں گے۔ ایسا معلوم ہوگا گویا دونوں کے درمیان ہلاکت خیز رکاوٹ قائم ہوگئی ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر قیامت میں ان کا انجام صرف یہ ہونے والا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا پائیں اور اس سے بھاگنے کی کوئی تدبیر نہ کرسکیں۔


Connections

  • Previous: 18_51
  • Next: 18_53
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes