Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 18:48 Prev 18:46


Arabic

وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ ٱلۡجِبَالَ وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ بَارِزَةٗ وَحَشَرۡنَٰهُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡهُمۡ أَحَدٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

فکر اُس دن کی ہونی چاہیے جب کہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے، اور تم زمین کو بالکل برہنہ پاؤ گے، اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ (اگلوں پچھلوں میں سے) ایک بھی نہ چھوٹے گا


English (Sahih International)

And [warn of] the Day when We will remove the mountains and you will see the earth prominent, and We will gather them and not leave behind from them anyone


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 47 وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً اب قیامت کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ اس دن پہاڑ اپنی جگہ چھوڑدیں گے زمین کے تمام نشیب و فراز ختم ہوجائیں گے اور پورا کرۂ ارض ایک صاف چٹیل میدان کی شکل اختیار کرلے گا۔وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاحضرت آدم سے لے کر آخری انسان تک پیدا ہونے والے نوع انسانی کے تمام افراد کو اس دن اکٹھا کرلیا جائے گا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 47 and 48.

موجودہ دنیا میں جو حالات جمع کيے گئے ہیں وہ محض امتحان کے لیے ہیں۔ امتحان کی مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد یہ حالات باقی نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد زمین کی ساری زندگی بخش خصوصیات ختم کردی جائیں گی۔ وہ ایسی خالی جگہ ہوجائے گی جہاں نہ کسی کے لیے اکڑنے کا سامان ہوگا اور نہ فخر کرنے کا۔

دنیا میں امتحان کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو اختیار کی فضا میں پارہا ہے۔ مگر قیامت اس فضاکو یکسر ختم کردے گی۔ اس دن لوگ بے یارومدد گار فضا میں اپنے رب کے پاس جمع کيے جائیں گے۔ تمام لوگ اپنے مالک کے سامنے اس کا فیصلہ سننے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ خدا کے پاس ہر شخص کی زندگی کا انتہائی مکمل ریکارڈ ہوگا۔ اس کے مطابق وہ کسی کو انعام دے گا اور کسی کے لیے سزا کا حکم سنائے گا۔

موجودہ دنیا میں انسان کی بیک وقت دو حالتیں ہیں۔ ایک اعتبار سے وہ عاجز ہے اور دوسرے اعتبار سے آزاد۔ آدمی اگر اپنے عجز کو دیکھے تو اس کے اندر خدا کی طرف رجوع کا جذبہ پیدا ہوگا۔ مگر انسان صرف اپنی آزادی کی حالت کو دیکھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غافل اور سرکش بن کر رہ جاتا ہے۔


Connections

  • Previous: 18_46
  • Next: 18_48
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes