Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے نبیؐ! تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں رد و بدل کرو گے تو) اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے
English (Sahih International)
And recite, [O Muhammad], what has been revealed to you of the Book of your Lord. There is no changer of His words, and never will you find in other than Him a refuge
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 27 وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ یعنی اس وقت آپ بہت مشکل صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کیفیت میں آپ کو صبر و استقامت کی سخت ضرورت ہے : وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ الاَّ باللّٰہِ النحل : 127 ”اور اے نبی ! آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر تو اللہ کے سہارے پر ہی ہے“۔ یہ سہارا آپ کو اللہ کے ساتھ اپنا قلبی تعلق اور ذہنی رشتہ استوار کرنے سے میسر ہوگا اور یہ تعلق مضبوط کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ قرآن مجید کی تلاوت ہے۔ّ تمسک بالقرآن کا یہ مضمون سورة العنکبوت میں اکیسویں پارے کے آغاز میں دوبارہ آئے گا۔ حق و باطل کی کشمکش میں جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو رسول اللہ کو خصوصی طور پر تمسک بالقرآن کی ہدایت کی گئی ‘ اور آپ کی وساطت سے تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ قرآن کی تلاوت کو اپنا معمول بنائیں قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت اس کے ساتھ صرف کریں۔ اسی طرح وہ مشکلات و شدائد کو برداشت کرنے اور اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ڟ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًایقیناً یہ راستہ بہت کٹھن ہے اور اس راستہ کے مسافروں نے سختیوں کو بہر حال برداشت کرنا ہے۔ یہ اللہ کا قانون ہے جو کسی کے لیے تبدیل نہیں کیا جاتا۔ اس مہم میں واحد سہارا اللہ کی مدد اور نصرت ہے۔ چناچہ اگر آپ کو کہیں پناہ ملے گی تو اللہ ہی کے دامن میں ملے گی اس در کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ علامہ اقبال نے اسی مضمون کی ترجمانی اپنے اس شعر میں کی ہے : نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی میرے جرم خانہ خراب کو ‘ تیرے عفو بندہ نواز میں !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 27 and 28.
قدیم مکہ میں جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دے کر بے آمیز دین کو اپنا دین بنایا تھا ان کے لیے یہ اقدام کوئی سادہ چیز نہ تھی۔ یہ مفادات سے وابستہ نظام کو چھوڑ کر ایک ایسے عقیدہ کا ساتھ دینا تھا جس سے بظاہر کوئی مفاد وابستہ نہ تھا۔ پہلا گروہ نئے دین کو اختیار کرتے ہی وقت کے جمے ہوئے نظام سے کٹ گیا تھاجب کہ دوسرا گروہ پوری طرح وقت کے جمے ہوئے نظام کے زور پر کھڑا ہوا تھا۔ پہلے گروہ کے پاس صرف خدا کی یاد کی باتیں تھیں جس کی اہمیت آخرت میں ظاہر ہوگی جب کہ دوسرا گروہ ان چیزوں کا مالک بنا ہوا تھا جس کی قیمت اسی دنیا کے بازار میں ہوتی ہے۔
یہ ظاہری فرق اگر داعی کو متاثر کردے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دین کی بے آمیز دعوت کی اہمیت اس کی نظرمیں کم ہوجائے گی۔ اور آمیزش والا دین اس کی نظر میں اہمیت اختیار کرلے گا جس کا علم بردار بن کر لوگ دنیا کی رونقیں حاصل کيے ہوئے ہیں۔
مگر یہ بہت بڑی بھول ہے۔ کیوں کے یہ اس اصل مشن سے ہٹنا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ داعی اگر ایسا کرے تو وہ خدا کی مدد سے محروم ہوجائے گا۔ وہ خدا کی دنیا میں ایسا ہوجائے گا کہ کوئی درخت اس کو سایہ نہ دے اور کوئی پانی اس کی پیاس نہ بجھائے۔ چنانچہ ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اے محمد، اگر تم نے لوگوں کو قرآن نہ سنایا تو خداکے مقابلہ میں تمھارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی (يَقُولُ إِنْ أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ لَمْ تَتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ، فَإِنَّهُ لَا مَلْجَأَ لَكَ مِنَ اللَّهِ كَمَا قَالَ تَعَالَىيَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ [
5:67
]) تفسیر ابن کثیر، جلد 5 ، صفحہ
151
۔