Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاْيۡءٍ إِنِّي فَاعِلٞ ذَٰلِكَ غَدًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور دیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا
English (Sahih International)
And never say of anything, “Indeed, I will do that tomorrow
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 23 وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًااس آیت میں ایک بہت اہم واقعہ کا حوالہ ہے۔ جب اہل مکہ نے رسول اللہ سے سوالات کیے تو آپ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو ان سوالات کے جوابات کل دے دوں گا۔ اس موقع پر آپ نے سہواً ”ان شاء اللّٰہ“ نہیں فرمایا۔ اس کے بعد کئی روز تک وحی نہ آئی۔ یہ صورت حال آپ کے لیے انتہائی پریشان کن تھی۔ مخالفین خوشی میں تالیاں پیٹ رہے ہوں گے آپ کو ناکامی کے طعنے دے رہے ہوں گے اور آپ کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑ رہا ہوگا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو کیسی کیسی سخت آزمائشوں سے دوچار کرتا ہے : جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے !“عام لوگ اپنی روز مرہ کی گفتگو میں کیسی کیسی لایعنی باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن اللہ کے ہاں ان کی پکڑ نہیں ہوتی اس لیے کہ وہ اللہ کے ہاں اہم نہیں ہوتے مگر یہاں ایک انتہائی مقرب ہستی سے سہواً ایک کلمہ ادا ہونے سے رہ گیا تو باوجود اس کے کہ معاملہ بیحد حساس تھا وحی روک لی گئی۔ بالآخر کئی روز کے بعد جب اللہ کو منظور ہوا تو حضرت جبرائیل سوالات کے جوابات بھی لے کر آئے اور ساتھ یہ ہدایت بھی کہ کبھی کسی چیز کے بارے میں یوں نہ کہیں کہ میں کل یہ کروں گا :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 23 and 24.
قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط کو مدینہ بھیجا کہ وہ یہود سے مل کر محمد کے بارے میں پوچھیں۔ کیوں کہ وہ لوگ نبیوں کا علم رکھتے ہیں۔ دونوں مدینہ آئے اور علماء یہود سے کہا کہ ہم کو ہمارے آدمی کے بارے میں بتاؤ۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ ان سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھو۔ اگر وہ تم کو ان کی بابت بتا دیں تو وہ پیغمبر ہیں۔ ورنہ وہ متقول (باتیں بنانے والے ) ہیں۔ ان میں سے ایک سوال اصحابِ کہف کے نوجوانوں کے بارے میں تھا۔ دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں اور تیسرا روح کے بارے میں۔
پریس کے دور سے پہلے عام لوگوں کو اصحاب کہف کی بابت کچھ معلوم نہ تھا۔ یہ قصہ بعض سریانی مخطوطات میں درج تھا جس کی خبر صرف چند خاص علماء کو تھی۔ آپ کے سامنے یہ سوال آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے جو بات پوچھی ہے اس کا جواب میں کل دوں گا (أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَأَلْتُمْ عَنْهُ غَدًا)آپ کو امید تھی کہ کل تک جبریل آجائیں گے اور میں ان سے معلوم کرکے جواب دے دوں گا۔ مگر جبریل کے آنے میں تاخیر ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ پندرہ دن کے بعد سورہ کہف لے کر آئے(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ
301
)۔
وحی میں اس تاخیر سے مکہ کے مخالفین کو موقع مل گیا۔ انھوںنے اس کو بنیاد بنا کر لوگوں کو آپ سے بد ظن کرنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ایک معمولی بات کو شوشہ بنا کر جس شخص کی صداقت سے لوگوں کو مشتبہ کرنا چاہتے ہو اس کی صداقت پر اس سے زیادہ یقینی اور اس سے زیادہ بڑی دلیلیں جمع ہونے والی ہیں (ان الله سيؤتيه من الحجج على صحة نبوته ما هو ادلّ من قصة اصحاب الكهف )التفسیر المظہری، جلد 6، صفحہ
27
۔
یہ بات آج واقعہ بن چکی ہے ، آج پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ صداقت پر اتنے دلائل جمع ہوچکے ہیں کہ کوئی ہوش مند آدمی اس سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ۔ آپ کی نبوت آج ایک ثابت شدہ نبوت ہے، نہ کہ محض مدعیانہ نبوت۔