Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 18:22 Prev 18:20


Arabic

وَكَذَٰلِكَ أَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيهَآ إِذۡ يَتَنَٰزَعُونَ بَيۡنَهُمۡ أَمۡرَهُمۡۖ فَقَالُواْ ٱبۡنُواْ عَلَيۡهِم بُنۡيَٰنٗاۖ رَّبُّهُمۡ أَعۡلَمُ بِهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِم مَّسۡجِدٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِس طرح ہم نے اہل شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آ کر رہے گی (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اِن (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے کچھ لوگوں نے کہا “اِن پر ایک دیوار چن دو، ان کا رب ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے” مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا ” ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے


English (Sahih International)

And similarly, We caused them to be found that they [who found them] would know that the promise of Allah is truth and that of the Hour there is no doubt. [That was] when they disputed among themselves about their affair and [then] said, “Construct over them a structure. Their Lord is most knowing about them.” Said those who prevailed in the matter, “We will surely take [for ourselves] over them a masjid


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 21 وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ چنانچہ اصحاب کہف کا ایک ساتھی جب کھانا لینے کے لیے شہر گیا تو اپنے لباس حلیے اور کرنسی وغیرہ کے باعث فوری طور پر اسے پہچان لیا گیا کہ وہ موجودہ زمانے کا انسان نہیں ہے۔ پھر جب اس سے تفتیش کی گئی تو سارا راز کھل گیا۔ اس وقت اگرچہ اس واقعہ کو تین سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا مگر اس کے باوجود یہ بات ابھی تک لوگوں کے علم میں تھی کہ فلاں بادشاہ کے ڈر سے اس شہر سے سات آدمی کہیں روپوش ہوگئے تھے اور پوری مملکت میں تلاش بسیار کے باوجود کہیں ان کا سراغ نہ مل سکا تھا۔ اسی طرح یہ بات بھی لوگوں کے علم میں تھی کہ اس پورے واقعے کو ایک تختی پر لکھ کر ریکارڈ کے طور پر شاہی خزانے میں محفوظ کرلیا گیا تھا۔ لہٰذا اصحاب کہف کے ساتھی سے ملنے والی معلومات کی تصدیق کے لیے جب مذکورہ تختی ریکارڈ سے نکلوائی گئی تو اس پر اس واقعہ کی تمام تفصیلات لکھی ہوئی مل گئیں اور یوں یہ واقعہ پوری وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے آگیا۔لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَایہ واقعہ گویا بعث بعد الموت کے بارے میں ایک واضح دلیل تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تین سو سال تک ان لوگوں کو سلائے رکھا اور پھر اٹھا کھڑا کیا تو اس کے لیے مردوں کا دوبارہ زندہ کرنا کیونکر ممکن نہیں ہوگا ؟اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ اس کے بعد اصحاب کہف تو اپنی غار میں پہلے کی طرح سوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر حقیقی موت وارد کردی لیکن لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف پیدا ہوگیا کہ ان کے بارے میں حتمی طور پر کیا معاملہ کیا جائے۔فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا ۭ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ کچھ لوگوں نے رائے دی کہ اس معاملہ کی اہمیت کے پیش نظر یہاں ایک شاندار یادگار تعمیر کی جانی چاہیے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

انسان سو سال یا اس سے بھی کم مدّت موجودہ زمین پر زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مر کر باقی رہتا ہے اور دوبارہ ایک نئی دنیامیں اٹھتا ہے جہاں اس کے لیے یا ابدی راحت ہے یا ابدی عذاب۔

یہ انسان کا سب سے زیادہ سنگین مسئلہ ہے اور اس پر لوگوں کے درمیان ہمیشہ بحث جاری رہی ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی بنا پر خدا نے ایسا کیا کہ عقلی دلیل کے ساتھ اس کے حق میں حسی دلیل کا بھی انتظام فرمایا، تاکہ ’’زندگی بعد موت‘‘ کے معاملہ میں کسی کے لیے اس کی گنجائش باقی نہ رہے۔ مختلف زمانوں میں یہ حسی دلیل مختلف انداز سے دکھائی جاتی رہی ہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں اصحاب کہف کا ’’موت‘‘ کے بعد دوبارہ غار سے نکلنا اسی قسم کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں ما فوق سائنس (meta science) کی تحقیقات بھی غالباً اُسی نوعیت کی مثاليں ہیں، جن سے زندگی بعد موت کا نظریہ حسی معیار استدلال پر ثابت ہوتاہے۔

اصحاب کہف دو سوسال ( یا اس سے زیادہ مدت کے بعد) جب غار سے نکلے تو ان کے شہر کی دنیا بالکل بدل چکی تھی۔ غالباً 250 ء میں وہ اپنے شہر افیسس سے نکل کر غار میں گئے تھے۔ اس وقت اس علاقہ میں بت پرست حکمراں ڈیسیس کی حکومت تھی۔ اس درمیان میں مسیحی مبلغین کی کوششوں سے رومی بادشاہ قسطنطین (272-337) عیسائی ہوگیا اور اس کے بعد سارے رومی علاقہ میں عیسائی مذہب پھیل گیا۔

447

ء میں جب اصحاب کہف دوبارہ اپنے شہر میں واپس آئے تو ان کے شہر ميں عیسائیت کا غلبہ ہوچکا تھا۔

جب یہ ساتوں نوجوان غار سے باہر آئے اور شاہی خزانہ میں محفوظ ان کے نام کی تختی، نیز دوسرے قرائن سے تصدیق ہوگئی کہ یہ وہی نوجوان ہیں جو بت پرستی کے دور میں اپنے مسیحی عقائد کی خاطر شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے تو وہ فوراً لوگوں کی عقیدت کا مرکز بن گئے۔ نیا رومی حکمراں تھیوڈوسیس خود ان سے ملنے او ر ان کی برکت لینے کے لیے پیدل چل کر ان کے پاس آیا،اور جب ان نوجوانوں کا انتقال ہوا تو ان کی یاد گار میں ان کے غار کے اوپر عبادت خانہ تعمیر کیاگیا۔


Connections

  • Previous: 18_20
  • Next: 18_22
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes