Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 18:18 Prev 18:16


Arabic

۞وَتَرَى ٱلشَّمۡسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَٰوَرُ عَن كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ ٱلشِّمَالِ وَهُمۡ فِي فَجۡوَةٖ مِّنۡهُۚ ذَٰلِكَ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِۗ مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ وَلِيّٗا مُّرۡشِدٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تم انہیں غار میں دیکھتے تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سورج جب نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے


English (Sahih International)

And [had you been present], you would see the sun when it rose, inclining away from their cave on the right, and when it set, passing away from them on the left, while they were [laying] within an open space thereof. That was from the signs of Allah. He whom Allah guides is the [rightly] guided, but he whom He leaves astray - never will you find for him a protecting guide


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَات الشِّمَالِ یعنی اس غار کا منہ شمال کی طرف تھا جس کی وجہ سے سورج کی براہ راست روشنی یا دھوپ اس میں دن کے کسی وقت بھی نہیں پڑتی تھی۔ ہمارے ہاں بھی دھوپ اور سائے کا یہی اصول کار فرما ہے۔ سورج کسی بھی موسم میں شمال کی طرف نہیں جاتا۔ اسی اصول کے تحت کارخانوں وغیرہ کی بڑی بڑی عمارات میں یہاں north light shells کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ ایسے shells سے روشنی تو بلڈنگ میں آئے مگر دھوپ براہ راست نہ آئے۔وَهُمْ فِيْ فَجْــوَةٍ مِّنْهُ یعنی غار اندر سے کافی کشادہ تھی اور اصحاب کہف اس کے اندر کھلی جگہ میں سوئے ہوئے تھے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

دعوتی دور میں جب اصحاب کہف اور ان کی قوم کے لوگوں کے درمیان کش مکش بڑھی، اسی دوران میں غالباً انھوںنے امکانی اندیشہ کے پیش نظر ایک مخصوص غار کا انتخاب کرلیا تھا۔ یہ غار اتنا وسیع تھا کہ سات آدمی بآسانی اس کے اندر قیام کرسکیں۔مزید یہ کہ غالباً وہ شمال رُویہ تھا۔ اس بنا پر سورج کی روشنی صبح یا شام کسی وقت بھی براہِ راست اس کے اندر نہیں پہنچتی تھی اور ادھر سے گزرنے والا کوئی شخص باہر سے دیکھ کر یہ نہیں جان سکتا تھا کہ اس کے اندر کچھ انسان موجود ہیں۔

جب آدمی ایسا کرے کہ حق کے معاملے میں مصلحت کا رویہ نہ اختیار کرے۔ مشکل ترین حالات میں بھی وہ صبر وشکر کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ رہے تو خدا اس کو ایسے راستوں کی طرف رہنمائی فرماتا ہے جس میںاس کا ایمان بھی محفوظ رہے اور وہ اپنے دعوتی مشن کو بھی نہ کھوئے۔ یہ نصرت اصحابِ کہف کو ان کے مخصوص حالات کے اعتبار سے پوری طرح حاصل ہوئی۔

مزید یہ کہ خدا نے ان کو اپنے خاص کام کے لیے چن لیا۔ انھوںنے جس روحانی بلندی کا ثبوت دیا تھا اس کے بعد وہ خدا کی نظر میں اس قابل ہوگئے کہ ان کو زندگی بعد موت کا حسی ثبوت بنادیا جائے— اصحاب کہف کا دو سوسال (يا اس سے زياده مدّت) تک سوکر دوبارہ اٹھنا اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے۔


Connections

  • Previous: 18_16
  • Next: 18_18
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes