Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 18:108 Prev 18:106


Arabic

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنَّـٰتُ ٱلۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

البتّہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے


English (Sahih International)

Indeed, those who have believed and done righteous deeds - they will have the Gardens of Paradise as a lodging


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 107 اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاجن لوگوں نے ایمان کے تقاضے بھر پور طور پر پورے کیے اور وہ نیک اعمال کرتے رہے ان کے لیے ٹھنڈی چھاؤں والے باغات ہوں گے۔ آج ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ وہ باغات کیسے ہوں گے اور کہاں ہوں گے۔ اس کائنات کی وسعت بیحد و حساب ہے اور جنت کی وسعت بھی ہمارے احاطہ خیال میں نہیں سما سکتی۔ اس کائنات میں اَن گنت کہکشائیں ہیں اور نہ معلوم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کہاں کہاں جنتیں بنا رکھی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ نچلے درجے والا جنتی اوپر والے جنتی کو ایسے دیکھے گا جیسے آج ہم زمین سے ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ بہرحال معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کی ابتدائی مہمان نوازی نُزُل یہیں اسی زمین پر ہوگی۔ یعنی ”قصۂ زمین برسر زمین“ ہی طے کیا جائے گا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 107 and 108.

موجودہ دنیا میں ایمان اور عمل کی زندگی اختیار کرنا زبردست قربانی کا ثبوت دینا ہے۔ یہ چھپی ہوئی جنت کی خاطر نظر آنے والی جنت کو چھوڑنا ہے۔ یہ اس مشکل ترین امتحان میں پورا اترنا ہے جب کہ آدمی مجرد دلیل کی سطح پر حق کو پہچانتا ہے اور اپنی زندگی اس کے راستہ پر ڈال دیتا ہے، حالاں کہ ایسا کرنے کے لیے وہاں کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔

جو لوگ اس معرفت اور اس کارکردگی کا ثبوت دیں ان کا انعام یہی ہے کہ ان کو ابدی راحت و آرام کے باغوں میں داخل کردیا جائے۔


Connections

Tafsir Notes