Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ يَهۡدِي لِلَّتِي هِيَ أَقۡوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ أَجۡرٗا كَبِيرٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے
English (Sahih International)
Indeed, this Qur’an guides to that which is most suitable and gives good tidings to the believers who do righteous deeds that they will have a great reward
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 9 اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ یاد رکھو ! اب راہ ہدایت وہی ہوگی جس کی نشان دہی یہ کتاب کرے گی جسے ہم اپنے آخری رسول پر نازل کر رہے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ کے قصر رحمت میں داخل ہونے کا ”شاہدرہ“ ایک ہی ہے اور وہ ہے یہ قرآن۔ اب اگر تم اللہ کے دامن رحمت میں پناہ لینا چاہتے ہو تو اس قرآن کے راستے سے ہو کر آؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو اللہ کی رحمت کے دروازے ایک بار پھر تمہارے لیے کھل جائیں گے اور جو رفعتیں اور برکتیں اس آخری نبی کی امت کے لیے لکھی گئی ہیں تم بھی ان میں حصہ دار بن جاؤ گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 9 and 10.
قرآن تمام انسانوں کو توحید کی طرف بلاتا ہے۔ یعنی ایک خدا کو مان کر اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دے دینا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے زیادہ صحیح، جس سے زیادہ معقول اور جس سے زیادہ مطابقِ فطرت بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ توحید بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے اور اسی کے ساتھ سب سے بڑی صداقت۔
توحید کی اس حیثیت کا تقاضا ہے کہ یہی تمام انسانوں کے لیے جانچ کا معیار ہو۔ اسی کی بنیاد پر کسی کو صحیح قرار دیا جائے اور کسی کو غلط۔ کوئی کامیاب ٹھہرے اور کوئی ناکام۔
موجودہ دنیا میں بظاہر یہ معیار سامنے نہیں آتا اور اس کی بنیاد پر انسانوں کی عملی تقسیم نہیں کی جاتی۔ مگر یہ صرف خدا کے قانون امتحان کی وجہ سے ہے۔ انفرادی طورپر موت اور اجتماعی طورپر قیامت اس مدت امتحان کی آخری حد ہے۔ یہ حد آتے ہی انسان دو گروہوں کی صورت میں الگ الگ کردئے جائیں گے۔ توحید کے راستہ کو اختیار کرنے والے اپنے آپ کو جنت میں پائیں گے اور اس کو اختیار نہ کرنے والے اپنے آپ کو جہنم میں۔