Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 17:87 Prev 17:85


Arabic

وَلَئِن شِئۡنَا لَنَذۡهَبَنَّ بِٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِۦ عَلَيۡنَا وَكِيلًا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور اے محمدؐ، ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تم کو عطا کیا ہے، پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پاؤ گے جو اسے واپس دلا سکے


English (Sahih International)

And if We willed, We could surely do away with that which We revealed to you. Then you would not find for yourself concerning it an advocate against Us


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

The commentary on this ayah is given with ayah 17:85.


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 86 to 88.

قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص اوقات میں اترتاتھا۔ ان مخصوص اوقات کے علاوہ آپ خود بھی اس پر قادر نہ تھے کہ قرآن جیسا کلام وضع کرسکیں۔ دوسرے وقتوں میں آپ کی زبان سے جو کلام نکلتا تھا، وہ ہمیشہ قرآن کے کلام سے مختلف ہوتا تھا۔ جب کبھی لمبی مدت کے لیے وحی رکتی تو آپ بے حد پریشان ہوجاتے۔ مگر آپ کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ خود یا کسی کی مدد سے قرآن جیسا کلام بنالیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی زبان اور آپ کی اپنی زبان میں بے حد نمایاں فرق ہوتا تھا۔ یہ فرق آج بھی ہر عربی داں قرآن اور حدیث کی زبان کا تقابل کرکے دیکھ سکتا ہے۔

یہ واقعہ اس بات کا ایک واضح ثبو ت ہے کہ قرآن محمد کا کلام نہیں۔ وہ محمد کے سوا ایک اور برتر ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔

جو لوگ قرآن کو انسانی کلام کہتے تھے ان سے کہا گیا کہ اگر تمھارا خیال صحیح ہے تو بحیثیت انسان کے تمھیں بھی اس کی قدرت ہونی چاہیے۔ تم تنہا یا دوسرے انسانوں کو لے کر قرآن جیسا کلام بنا لاؤ۔ مگر اس وقت کے لوگوں میں سے کسی کے لیے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اس چیلنج کا جواب دے۔ بعد کے زمانہ میں بھی کوئی ادیب یا عالم قرآن جیسے کلام کا نمونہ پیش نہ کرسکا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کوشش کی مگر وہ سراسر ناکام رہے۔ وہ قرآن جیسی ایک سورہ بھی نہ بنا سکے۔


Connections

  • Previous: 17_85
  • Next: 17_87
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes