Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِن كَادُواْ لَيَسۡتَفِزُّونَكَ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ لِيُخۡرِجُوكَ مِنۡهَاۖ وَإِذٗا لَّا يَلۡبَثُونَ خِلَٰفَكَ إِلَّا قَلِيلٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور یہ لوگ اس بات پر بھی تلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سر زمین سے اکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھیر سکیں گے
English (Sahih International)
And indeed, they were about to drive you from the land to evict you therefrom. And then [when they do], they will not remain [there] after you, except for a little
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 76 وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًایہ مکی دور کے آخری ایام کے ان حالات کی جھلک ہے جب اس کش مکش کی شدت انتہا کو پہنچ چکی تھی اور حالات بیحد نازک رخ اختیار کرچکے تھے۔ یہاں پر رسول اللہ کو معاذ اللہ مکہ سے نکالنے کے لیے قریش کی منصوبہ بندی کا صرف ذکر کیا گیا ہے مگر اس کی نفی کرنے کے بجائے یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو آپ کے بعد وہ خود بھی یہاں پر زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ قریش کے اکثر سردار تو ہجرت کے دوسرے برس ہی جنگ بدر میں قتل ہوگئے جبکہ صرف آٹھ سال بعد مکہ شہر پر آپ کا باقاعدہ تسلط بھی قائم ہوگیا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 76 and 77.
جب بھی کسی گروہ میں سچے دین کی دعوت اٹھتی ہے تو صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو مذہب کے نام پر قائم شدہ گدیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا داعی ہوتاہے جو بے آمیز دین کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے وقت کے ماحول میں تنہا اور بے زور دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال دیتاہے۔ وہ داعی حق کو بالکل بے قیمت سمجھ لیتے ہیں۔ حتی کہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کو اپنی بستی سے نکال دیں۔
ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ زمین خدا کی زمین ہے۔ یہاں کسی بندۂ خدا کے خلاف تخریب کا منصوبہ بنانا خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں مجرم ثابت کرنا ہے۔ خدا کے داعی کو کسی بستی سے نکالنا ایسا ہی ہے جیسے کسی شہر سے اس شخص کو نکال دیا جائے جس کو وہاں حکومتِ وقت کے نمائندہ کی حیثیت حاصل ہو۔ ایسے شخص کو بستی میں نہ رہنے دینے کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتاہے کہ بستی والے خود وہاں نہ رہنے پائیں۔
آدمی دوسرے کو نکالتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو نکال رہا ہوتاہے۔ آدمی دوسرے کو چھوٹا کرنا چاہتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو اس مالک حقیقی کی نظر میں چھوٹا کررہا ہوتاہے، جس کو حقیقۃً یہ اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے چھوٹا کرے اور جس کو چاہے بڑا کرے۔