Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنۡ أَحۡسَنتُمۡ أَحۡسَنتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡۖ وَإِنۡ أَسَأۡتُمۡ فَلَهَاۚ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ ٱلۡأٓخِرَةِ لِيَسُـُٔواْ وُجُوهَكُمۡ وَلِيَدۡخُلُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوۡاْ تَتۡبِيرًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
دیکھو! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اُسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کر کے رکھ دیں
English (Sahih International)
[And said], “If you do good, you do good for yourselves; and if you do evil, [you do it] to yourselves.” Then when the final promise came, [We sent your enemies] to sadden your faces and to enter the temple in Jerusalem, as they entered it the first time, and to destroy what they had taken over with [total] destruction
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 7 اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا تمہارے نیک اعمال کا فائدہ بھی تمہیں ہوا اور تمہاری برائیوں اور نافرمانیوں کا وبال دنیا میں بھی تم پر آیا اور اس کا وبال آخرت میں بھی تم پر پڑے گا۔فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جب دوبارہ تم نے اللہ کے دین سے سرکشی اختیار کی تمہارے اعتقادات نظریات اور اخلاق پھر سے مسخ ہوگئے تو وعدے کے عین مطابق تم پر عذاب کے دوسرے مرحلے کا وقت آپہنچا۔لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ اس سلسلے میں آیت 5 میں یہ الفاظ آئے تھے : بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ کہ ہم نے تم پر اپنے بندے مسلط کردیے جو سخت جنگجو تھے۔ اس فقرے کا مفہوم یہاں بھی پایا جاتا ہے لیکن یہاں دوبارہ اسے دہرایا نہیں گیا۔ چناچہ اس فقرے کو یہاں مخدوف سمجھا جائے گا اور آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ ہم نے پھر تم پر اپنے سخت جنگجو بندے مسلط کیے تاکہ وہ تمہارے حلیے بگاڑ دیں۔وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ یہاں اشارہ ہے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کی بار دگر بےحرمتی کی طرف۔ جیسے 587 قبل مسیح میں بخت نصر نے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو مسمار کیا تھا ویسے ہی رومی جرنیل ٹائیٹس نے 70 ء میں ایک دفعہ پھر ان کے تقدس کو پامال کیا۔وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًاان آیات میں بنی اسرائیل کی دو ہزار سالہ تاریخ کے نشیب و فراز کی تفصیلات کو سمو دیا گیا ہے۔ اس عرصے میں انہوں نے دو مرتبہ عروج دیکھا اور دو دفعہ ہی زوال سے دو چار ہوئے۔ نبی آخر الزماں کی بعثت کے زمانے میں ان آیات کے نزول کے وقت ان کے دوسرے دور زوال کو شروع ہوئے پانچ سو برس ہونے کو آئے تھے۔ اس سیاق وسباق میں انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 7 and 8.
حوادث کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو خدا نے دوبارہ ان کی مدد کی۔ اس بار خدا نے شاہ ایران سائرس (خسرو) کو اٹھایا۔ اس نے
539
ق م میں بابل پر حملہ کیا، اور اس کی حکومت کو شکست دے کر اس کے اوپر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود پر یہ مہربانی کی کہ ان کو دوبارہ بابل سے ان کے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ وہ واپس آئے اور ایک عرصہ کے بعد دوبارہ اپنا عبادت خانہ تعمیر کیا۔
تاہم یہود کی نئی نسل میں دوبارہ وہی بگاڑ پیدا ہونے لگا جو ان کی پچھلی نسل میں پیدا ہوا تھا۔ اس درمیان میں ان کے اندر مختلف اتار چڑھاؤ آئے۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان حضرت یحیٰ اور حضرت مسیح اٹھے۔ ان پیغمبروں نے یہود کی روش پر تنقیدیں کیں۔ ان کی اس بے دینی کو کھولا جو وہ دین کے نام پر کررہے تھے۔ مگر یہود اس تنقید وتجزیہ کا اثر قبول کرنے کے بجائے بگڑ گئے۔ حتی کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔
اب دوبارہ ان پر خدا کا غضب بھڑکا۔ 70 ءمیں رومی بادشاہ تیتس (Titus)اٹھا اور اس نے یروشلم پر حملہ کرکے اس کو بالکل تباہ وبرباد کرڈالا۔
یہود کی تاریخ کے یہ واقعات خود یہود کے نزدیک بھی مسلم ہیں۔ مگر یہود جب ان تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ان کو ظالموں کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر قرآن واضح طورپر ان کو خود یہود کے خانہ میںڈال رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی حالات ہمیشہ اخلاقی حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ کوئی ظالم کسی کے اوپر ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ قوم کی دینی اور اخلاقی حالت کا بگاڑ لوگوں کو یہ موقع دے دیتاہے کہ وہ اس کو اپنے ظلم و استغلال کا نشانہ بنائیں۔