Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ قَالَ ءَأَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِينٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور یاد کرو جبکہ ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا ا س نے کہا “کیا میں اُس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے؟
English (Sahih International)
And [mention] when We said to the angles, “Prostrate to Adam,” and they prostrated, except for Iblees. He said, “Should I prostrate to one You created from clay
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 61 to 63.
قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًاحضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع 4 ‘ سورة الاعراف رکوع 2 اور سورة الحجر رکوع 3 میں اس قصے کا ذکر ہوچکا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 61 and 62.
فرشتے اور ابلیس کا قصہ بتاتاہے کہ ماننے والے کیسے ہوتے ہیں اور نہ ماننے والے کیسے۔ ماننے والے لوگ حق کو حق کے لحاظ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اس کو سمجھنے میں انھیں دیر نہیں لگتی۔ وہ فوراً اس کو سمجھ کر اسے مان لیتے ہیں۔ جیسا کہ آدم کی پیدائش کے وقت فرشتوںنے کیا۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جو حق کو اپنے ذات کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ شیطان نے یہی کیا۔ ا س نے حق کو اپنی ذات کی نسبت سے دیکھا۔ چوں کہ سجدۂ آدم کا حکم آدم کو بظاہر بڑا بنارہا تھا اور اس کو چھوٹا، اس نے ایسے حق کو ماننے سے انکار کردیا جس کو ماننے کے بعد اس کی اپنے ذات چھوٹی ہوجائے۔
شیطان نے خدا کو جو چیلنج دیا تھا اس کو سامنے رکھ کر دیکھيے تو ہر وہ شخص شیطان کا شکار نظر آئے گا جو حق کو اس لیے نظر انداز کردے کہ اس کو ماننے کی صورت میں اس کی اپنی ذات دوسرے کے مقابلہ میں چھوٹی ہوجاتی ہے۔