Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 17:34 Prev 17:32


Arabic

وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۗ وَمَن قُتِلَ مَظۡلُومٗا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِيِّهِۦ سُلۡطَٰنٗا فَلَا يُسۡرِف فِّي ٱلۡقَتۡلِۖ إِنَّهُۥ كَانَ مَنصُورٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اُس کی مدد کی جائے گی


English (Sahih International)

And do not kill the soul which Allah has forbidden, except by right. And whoever is killed unjustly - We have given his heir authority, but let him not exceed limits in [the matter of] taking life. Indeed, he has been supported [by the law]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 33 وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ یہاں ”حق“ سے مراد چند وہ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کا قتل جائز ہے۔ ان میں خون کا بدلہ خون ‘ اسلامی ریاست میں مرتد کی سزا موت ، شادی شدہ زانی اور زانیہ کا رجم اور حربی کافر کا قتل شامل ہے۔وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًااسلامی قانون میں مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ وہ جان کے بدلے جان کی سزا پر اصرار کریں یا معاف کردیں یا پھر خون بہا لے لیں۔ یہ تینوں اختیارات مقتول کے ورثاء ہی کو حاصل ہیں۔ کسی عدالت یا سربراہ مملکت کو اس میں کچھ اختیار نہیں۔فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ یعنی جان کے بدلے جان کا فیصلہ ہو تو اس میں تجاوز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک آدمی کے بدلے مخالف فریق کے زیادہ لوگ قتل کردیے جائیں طریقہ قتل میں کسی قسم کی زیادتی کی جائے یا کسی بھی انداز میں اپنے اس اختیار کا ناجائز استعمال کیا جائے۔اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًاقاتل کو پکڑنے اس پر مقدمہ چلانے اور انصاف دلانے تک کے طویل اور پیچیدہ عمل میں ہر مرحلے پر مقتول کے ورثاء کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قتل کے مقدمات میں ریاست یا حکومت مدعی نہیں بنے گی بلکہ مقتول کے ورثاء ہی مدعی ہوں گے۔ ہمارے ہاں جو ”سرکار بنام فلاں“ کے عنوان سے مقدمہ بنتا ہے وہ معاملہ سراسر غیر اسلامی ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

حق شرعی کے بغیر کسی کو قتل کرنا سراسر حرام ہے۔ جو شخص شرعی جواز کے بغیر قتل کیا جائے وہ مظلومانہ قتل ہوا۔ ایسی حالت میں مقتول کے اولیاء کو قاتل کے اوپر پورا اختیا رہے۔ وہ چاہیں تو اس سے قصا ص لیں۔ چاہیں تو خوں بہا لے کر چھوڑ دیں۔ اور چاہیں تو سرے سے معاف کردیں۔ اسلامی قانون کے مطابق قتل کے معاملہ میں اصل مدعی مقتول کے اولیاء ہیں، نہ کہ حکومت۔ حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ مقتول کے اولیاء کی مرضی کو نافذ کرنے میں ان کی مدد کرے۔

قتل اتنا بھیانک جرم ہے کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ساری دنیا کا چلا جانا اللہ کے نزدیک اس سے اہون ہے کہ ایک مومن کو ناحق قتل کردیا جائے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ)سنن النسائی، حدیث نمبر 3987۔ اس کے باوجود مقتول کے اولیاء کو یہ حق نہیں کہ وہ قاتل سے بدلہ لیتے ہوئے اس کے ساتھ زیادتی کریں۔ مثلاً وہ قاتل کا مثلہ کریں یا قاتل کے بدلے اس کے کسی ساتھی کو قتل کردیں، وغیرہ۔ مقتول کے ورثاء اگر بدلہ لینے میں زیادتی کریں تو یہاں حکومت اسی طرح ان کی مزاحم ہوجائے گی جس طرح وہ ان کے حق قصاص کے معاملہ میں ان کی مددگار ہوئی تھی۔

اس سے اسلامی شریعت کی یہ روح معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی زیادہ مظلوم ہو، اگر وہ ظالم سے بدلہ لینا چاہتا ہے تو وہ صرف ظلم کے بقدر بدلہ لے سکتاہے۔ اس سے زیادہ کوئی کارروائی کرنے کی اجازت اسے ہر گز حاصل نہیں۔


Connections

  • Previous: 17_32
  • Next: 17_34
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes