Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 17:21 Prev 17:19


Arabic

كُلّٗا نُّمِدُّ هَـٰٓؤُلَآءِ وَهَـٰٓؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّكَۚ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُورًا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِن کو بھی اور اُن کو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے، اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے


English (Sahih International)

To each [category] We extend - to these and to those - from the gift of your Lord. And never has the gift of your Lord been restricted


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 20 كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ یہ دنیا چونکہ دار الامتحان ہے اس لیے جب تک انسان یہاں موجود ہیں ان میں سے کوئی مجرم ہو یا اطاعت گزار ہر ایک کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نوازش ہے جس میں سے وہ اپنے نافرمانوں اور دشمنوں کو بھی نواز رہا ہے۔وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًادنیا میں اللہ تعالیٰ کی یہ عطا اور بخشش عام ہے۔ اس میں دوست اور دشمن کے امتیاز کی بنیاد پر کوئی قدغن یا روک ٹوک نہیں ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 20 and 21.

دنیا کی کامیابی ہو یا آخرت کی کامیابی، دونوں ہی اللہ کے فراہم کيے ہوئے مواقع اور انتظامات کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہیں۔ جو شخص دنیا کی کامیابی حاصل کرتا ہے وہ بھی خدا کے انتظامات سے فائدہ اٹھا کر ایسا کرتاہے۔ اسی طرح جو شخص آخرت کو اپنا مقصود بنائے اس کے لیے بھی خدا نے ایسے انتظامات کررکھے ہیں جو اس کے آخرت کے سفر کو آسان بنانے والے ہیں۔

دنیا میں کوئی آدمی آگے نظر آتا ہے اور کوئی پیچھے۔ کسی کے پاس زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی دنیا میں مواقع کی کوئی حد نہیں۔ دنیا میں جو شخص جتنا زیادہ عمل کرتاہے وہ اتنا زیادہ اس کا پھل پاتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے لیے جو شخص جتنا زیادہ عمل کا ثبوت دے گا وہ اتنا ہی زیادہ انعام وہاں پائے گا۔ مزید یہ کہ آخرت میں ملنے والی چیز ابدی ہوگی جب کہ دنیا میں ملنے والی چیز صرف وقتی ہوتی ہے۔


Connections

  • Previous: 17_19
  • Next: 17_21
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes