Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 17:19 Prev 17:17


Arabic

مَّن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡعَاجِلَةَ عَجَّلۡنَا لَهُۥ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَهُۥ جَهَنَّمَ يَصۡلَىٰهَا مَذۡمُومٗا مَّدۡحُورٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جو کوئی عاجلہ کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر


English (Sahih International)

Whoever should desire the immediate - We hasten for him from it what We will to whom We intend. Then We have made for him Hell, which he will [enter to] burn, censured and banished


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 18 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ یہاں پر ”دنیا“ کی بجائے ”عاجلہ“ کا لفظ آیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ مؤنث ہیں۔ ”ادنیٰ“ قریب کی چیز کو کہا جاتا ہے اس کی مونث ”دنیا“ ہے جبکہ ”عاجل“ کے معنی جلدی والی چیز کے ہیں اور اس کی مؤنث ”عاجلہ“ ہے۔ یہ دنیا نقد کا سودا ہے یہاں پر راحت بھی فوراً آسودگی دیتی ہے اور اس کی تکلیف بھی فوری طور پر خود کو محسوس کراتی ہے۔ اسی لیے اسے ”عاجلہ“ کہا گیا ہے۔ عاجلہ کے مقابلے میں آیت زیر نظر میں ”آخرت“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ قرآن حکیم میں اکثر ”دنیا“ کے مقابلے میں بھی آتا ہے۔ دنیا یا عاجلہ کے مقابلے میں آخرت کو آخرت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا ثواب و عذاب بعد میں آنے والی چیز ہے۔آیت زیر نظر میں جو اصول بیان ہوا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ جو شخص دنیا کی عیش اور دنیا کی دولت و شہرت حاصل کرنے کا خواہش مند ہو اور صرف اسی کے لیے منصوبہ بندی محنت اور دوڑ دھوپ کرے اس کی محنت اور دوڑ دھوپ کو اللہ کسی نہ کسی درجہ میں کامیاب کردیتا ہے ‘ مگر ضروری نہیں کہ جس قدر کوئی دنیا سمیٹنا چاہے اسی قدر اسے مل بھی جائے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی بھی اس“ عاجلہ“ کو پانے کی دوڑ میں شامل ہو کامیاب ٹھہرے بلکہ ہر کسی کو وہی کچھ ملے گا جو اللہ چاہے گا اور صرف اسی کو ملے گا جس کے لیے وہ چاہے گا۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حصول دنیا کے لیے ساری عمر اپنے آپ کو ہلکان کردیتے ہیں مگر دنیا پھر بھی ہاتھ نہیں آتی۔ چناچہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ جس کو وہ چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے دنیا میں اس کی محنت کا صلہ دے دیتا ہے۔ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًااس شخص کی خواہش اور محنت سب دنیا کے لیے کی تھی چناچہ دنیا کسی نہ کسی قدر اسے دے دی گئی۔ آخرت کے لیے اس نے خواہش کی تھی اور نہ محنت لہٰذا آخرت میں سوائے جہنم کے اس کے لیے اور کچھ نہیں ہوگا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 18 and 19.

موجودہ دنیا میں آدمی دو راستوں کے درمیان ہے ایک کا فائدہ نقد ملتاہے اور دوسرے کا فائدہ ادھار۔ جو شخص پہلے راستہ پر چلے اس نے عاجلہ کو پسند کیا۔ اور جو شخص دوسرے راستہ کو اختیار کرے اس نے آخرت کو پسند کیا۔

ایک طرف آدمی کے سامنے مصلحت پرستی کا طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے فوری طورپر عزت اور دولت ملتی ہے۔ دوسری طرف بے لاگ حق پرستی کا طریقہ ہے جس کا کریڈٹ آدمی کو موت کے بعد کی زندگی میں ملے گا۔ کسی سے شکایت پیدا ہوجائے تو ایک صورت یہ ہے کہ اس کے بارے میں اپنے دل کے اندر انتقام کی نفسیات پیدا کرلی جائے اور اس کے خلاف وہ سب کچھ کیا جائے جو اپنے بس میں ہے۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو معاف کردیا جائے۔ اور ا س کے لیے اچھی دعائیں کرتے ہوئے سارے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا جائے۔ اسی طرح آدمی کے پاس جو مال ہے اس کے خرچ کی ایک شکل یہ ہے کہ اس کو اپنے شوق کی تکمیل ا ور اپنی عزت کو بڑھانے کی راہوں میں لگایا جائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ اس کو خدا کے دین کے مدوں میں خرچ کیا جائے۔

اسی طرح تمام معاملات میں آدمی کے سامنے دو مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ ایک خواہش پرستی کا طریقہ اور دوسرا خدا پرستی کا طریقہ۔ ایک سامنے کی چیزوں کو اہمیت دینا اور دوسرا غیب کی حقیقتوں کو اہمیت دینا۔ ایک مصلحت پرستی کا انداز اور دوسرا اصول پرستی کا انداز۔ ایک بے صبری کے تحت کر گزرنا اور دوسرا صبر کے ساتھ وہ کرنا جو کرنا چاہیے۔

پہلے طریقہ میں وقتی فائدہ ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی محرومی۔ دوسرے طریقہ میں وقتی نقصان ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی عزّت اور کامیابی۔


Connections

  • Previous: 17_17
  • Next: 17_19
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes