Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَآ أَرَدۡنَآ أَن نُّهۡلِكَ قَرۡيَةً أَمَرۡنَا مُتۡرَفِيهَا فَفَسَقُواْ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيۡهَا ٱلۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنَٰهَا تَدۡمِيرٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں
English (Sahih International)
And when We intend to destroy a city, We command its affluent but they defiantly disobey therein; so the word comes into effect upon it, and We destroy it with [complete] destruction
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 16 and 17.
فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًایہاں کسی بستی پر عذاب استیصال کے نازل ہونے کا ایک اصول بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اس کا سبب وہاں کے دولت مند اور خوشحال لوگ بنتے ہیں۔ یہ لوگ علی الاعلان اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی دیدہ دلیری کے سبب ان کی رسی مزید دراز کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی عیاشیوں اور من مانیوں میں تمام حدیں پھلانگ کر پوری طرح عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں عوام انہیں ان کے کرتوتوں سے باز رکھنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ایک وقت آتا ہے جب وہ بھی ان کے ساتھ جرائم میں شریک ہوجاتے ہیں اور یوں ایسا معاشرہ اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ ایسے میں صرف وہی لوگ عذاب سے بچ پاتے ہیں جو نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہے ہوں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 16 and 17.
کسی قوم کی اصلاح یا کسی قوم کے بگاڑ کا معیار اس قوم کا سربرآوردہ طبقہ ہوتاہے۔ یہی طبقہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا مالک ہوتاہے۔ یہی طبقہ اپنے وسائل کے ذریعے لوگوںپر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی طبقہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی گروہ کے اوپر قائد بننے کی قیمت ادا کرسکے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کي اصلاح پوری قوم کی اصلاح ہے اور کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کا بگاڑ پوری قوم کا بگاڑ۔ حضرت نوح کے زمانہ سے لے کر اب تک کی قوموں کا جائزہ لیا جائے تو ہر ایک کی تاریخ اس عام اصول کی صحت کی تصدیق کرے گی۔
اسی عام حکم میں قوم کے ان ’’بڑوں‘‘ کا معاملہ بھی شامل ہے جو قوم کو اپنی قیادت کی شکار گاہ بناتے ہیں، اور اس طرح اس کی غلط رہنمائی کرکے اس کی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں۔ وہ قوم کو حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت کا درس دیتے ہیں۔ اس کو معانی کے بجائے الفاظ کے طلسم میں گم کرتے ہیں۔ اس کو سنجیدگی کے بجائے تخیلات کی فضا میں اڑاتے ہیں۔ وہ اس کو حقائق کا اعتراف کرنے کے بجائے خوش خیالیوں میں جینا سکھاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ قوم کو خدا کے بجائے غیر خدا کی طرف متوجہ کردیتے ہیں۔
جب کسی قوم پر اس قسم کے رہنما چھا جائیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے یہاں سے اس قوم کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس قسم کا ہر واقعہ خدا کی اجازت کے تحت ہوتاہے۔ اور کسی شخص یا قوم کا کوئی عمل خدا سے چھپا ہوا نہیں ہے۔