Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَيَدۡعُ ٱلۡإِنسَٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلۡخَيۡرِۖ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ عَجُولٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے
English (Sahih International)
And man supplicates for evil as he supplicates for good, and man is ever hasty
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 11 وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ یعنی انسان اللہ سے دعا کر رہا ہوتا ہے کہ اے اللہ ! میرے لیے یوں کر دے یوں کر دے۔ حالانکہ اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ اپنے لیے مانگ رہا ہے وہ اس کے لیے مفید ہے یا مضر۔ اس طرح انسان اپنے لیے اکثر وہ کچھ مانگ لیتا ہے جو اس کے لیے الٹا نقصان دہ ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : عَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ”ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے شر ہو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے“۔ چناچہ بہتر لائحہ عمل یہ ہے کہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے انسان اپنے معاملات اس کے حوالے کر دے کہ اے اللہ ! میرے معاملات تیرے سپرد ہیں کیونکہ میرے نفع و نقصان کو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے : سپردم بتو مایۂ خویش را تو دانی حساب کم و بیش را !دعائے استخارہ میں بھی ہمیں تفویض امر کا یہی انداز سکھایا گیا ہے :اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْءَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ‘ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ 1”اے اللہ ! میں تیرے علم کی بدولت تجھ سے خیر چاہتا ہوں اور تیری قدرت کی برکت سے طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے فضل عظیم کا ‘ بیشک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں تو سب کچھ جانتا ہے اور میں کچھ بھی نہیں جانتا اور تو ہر قسم کے غیب کو جاننے والا ہے۔“بہرحال انسان کا عمومی رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرنے کے بجائے اپنی عقل اور سوچ پر انحصار کرتا ہے اور اس طرح اپنے لیے خیر کی جگہ شر کی دعائیں کرتا رہتا ہے۔وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًااپنی اس جلد بازی اور کوتاہ نظری کی وجہ سے وہ شر کو خیر اور خیر کو شر سمجھ بیٹھتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 11 and 12.
رات اور دن کا نظام بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تاریکی ہو اور اس کے بعد روشنی آئے۔ خدائی نقشہ میں دونوں یکساں طورپر ضروری ہیں۔ جس طرح روشنی میں فائدے ہیں اسی طرح تاریکی میں بھی فائدے ہیں۔ دنیا میں اگر رات اور دن کافرق نہ ہو تو آدمی اپنے اوقات کی تقسیم کس طرح کرے۔ وہ اپنے کام اور آرام کا نظام کس طرح بنائے۔
آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ’’تاریکی‘‘ سے گھبرائے اور صرف ’’روشنی‘‘ کا طالب بن جائے۔ کیوں کہ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جو آدمی ایسا چاہتا ہو اس كو خدا کی دنیا چھوڑ کر اپنے لیے دوسری دنیا تلاش کرنی پڑے گی۔
مگر عجیب بات ہے کہ یہی انسان کی سب سے بڑی كمزوري ہے۔ وہ ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ اس کو تاریکی کا مرحلہ پیش نہ آئے اور فوراً ہی اس کو روشنی حاصل ہوجائے۔ اسی کمزوری کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو عجلت (جلدبازي) کہاجاتا ہے۔ عجلت دراصل خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونے کا دوسرا نام ہے۔ اور خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونا ہی تمام انسانی بربادیوں کا اصل سبب ہے۔
خدا چاہتاہے کہ انسان دنیا کی فوری لذتوں پر صبر کرے تاکہ وہ آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ مگر انسان اپنی عجلت کی وجہ سے دنیا کی وقتی لذتوں پر ٹوٹ پڑتاہے۔ وہ آگے کی طرف اپنا سفر طے نہیں کرپاتا۔ آدمی کی عاجلہ(دنيا) پسندی اس کو آخرت کی نعمتوں سے محروم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔
یہی دنیا کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بھی حقیقی کامیابی صبر سے ملتی ہے نہ کہ جلد بازی سے۔یہود کو ان کے پیغمبر یرمیاہ نے نصيحت کی کہ تم بابل کے حکمراں کے سیاسی غلبہ کو فی الحال تسلیم کرلو اور ابتدائی مرحلہ میںاپنی کوششوں کو صرف دعوتی اور تعمیری میدان میں لگاؤ۔ اس کے بعد وہ وقت بھی آئے گا جب کہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے غلبہ اور اقتدار کی راہیں کھول دے۔ مگر یہود کی عجلت پسندی اس پر راضی نہیں ہوئی۔ انھوں نے چاہا کہ ’’تاریکی‘‘ کے مرحلہ سے گزرے بغیر وه ’’روشنی‘‘ کے مرحلہ میں داخل ہوجائیں۔ انھوںنے فوراً شاہ بابل کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کردی۔ چوں کہ خداکے نظام میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا، ان کے حصہ میں ذلّت اور رسوائی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔