Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُل لَّوۡ أَنتُمۡ تَمۡلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحۡمَةِ رَبِّيٓ إِذٗا لَّأَمۡسَكۡتُمۡ خَشۡيَةَ ٱلۡإِنفَاقِۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ قَتُورٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے محمدؐ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے
English (Sahih International)
Say [to them], “If you possessed the depositories of the mercy of my Lord, then you would withhold out of fear of spending.” And ever has man been stingy
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ اگر اللہ کی رحمت کے بےحساب خزانے تمہارے اختیار میں ہوتے تو تم لوگ اپنے فطری بخل کے سبب ان کے دروازے بھی بند کردیتے کہ کہیں خرچ ہو کر ختم نہ ہوجائیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
انسان تنگ ظرف واقع ہوا ہے۔ وہ ہر قسم کے شرف کو اپنے لیے یا اپنے گروہ کے لیے جمع کرلینا چاہتا ہے۔ اگر نعمتوں کی تقسیم انسان کے ہاتھ میں ہوتی تو جن لوگوں کے پاس دولت وعظمت آگئی تھی وہی نبوت کو بھی اپنے پاس جمع کرلیتے۔ وہ اس کو دوسروں کے پاس جانے نہ دیتے۔
مگر خدا معاملات کو جوہر کے اعتبار سے دیکھتا ہے، نہ کہ گروہی تعصبات کی نظر سے۔ وہ تمام انسانوں پر نظر ڈالتا ہے۔ اور پوری نسل میں جو سب سے بہتر انسان ہوتاہے اس کو نبوت کے لیے چن لیتاہے۔ نبوت کا انتخاب اگر انسان کرنے لگیں تو یہاں بھی وہی کیفیت پیدا ہوجائے جو انسانی اداروں میں جانب داری کی وجہ سے نا اہل انسانوں کی بھیڑ کی صورت میں نظر آتی ہے۔