Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَإِذَا قَرَأۡتَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو
English (Sahih International)
So when you recite the Qur’an, [first] seek refuge in Allah from Satan, the expelled [from His mercy]
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 98 and 99.
آیت 98 فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ اس حکم کی رو سے قرآن کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھنا ضروری ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 98 to 100.
قرآن کو پڑھنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، اپنی نصیحت کے لیے پڑھنا۔ دوسري، دعوت کی خاطر دوسروں کے سامنے پیش کرنا، خواہ قر آن کے الفاظ دُہرائے جائیں یا اس کے مطالب بیان کيے جائیں۔دونوں صورتوں میں ضروری ہے کہ آدمی شیطان کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے۔ تعوذ کا مطلب صرف کچھ مقرر الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اپنے آپ کو شعوری طورپر مسلح کرنا ہے تاکہ شیطان کا حملہ بے اثر ہو کر رہ جائے۔
شیطان ہر وقت آدمی کی گھات میںہے۔وہ قرآن کے الفاظ کے مفہوم کواس کے قاری کے ذہن میں بدل دیتاہے۔ اور جو چیز متن میں نہ ہو اس کو تفسیر میں شامل کرا دیتاہے۔ اسی طرح شیطان داعی اور مدعوکے درمیان ایسے فتنے ابھارتا ہے جس کے نتیجے میں دعوت کا عمل رک جائے۔
تاہم شیطان کو خدانے صرف بہکانے اور ورغلانے کی آزادی دی ہے۔ اس کو یہ طاقت نہیں دی کہ وہ کسی کو بزور گمراہی کے راستے پر ڈال دے۔ جو لوگ خدا سے اپنا ذہنی رابطہ قائم کيے ہوئے ہوں ان پر اس کا کچھ بس نہیں چلتا۔ البتہ جو لوگ خدا سے غافل ہوں اور شیطان کی باتوں پر دھیان دیں ان کے اورپر شیطان مسلط ہوجاتا ہے اور پھر جدھر چاہتا ہے ادھر انھیں لے جاتا ہے۔