Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَا عِندَكُمۡ يَنفَدُ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٖۗ وَلَنَجۡزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓاْ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے، اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے
English (Sahih International)
Whatever you have will end, but what Allah has is lasting. And We will surely give those who were patient their reward according to the best of what they used to do
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ہر نیکو کار شخص کے تمام اعمال ایک درجے کے نہیں ہوتے کوئی نیکی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اور کوئی نسبتاً چھوٹے درجے کی۔ مگر جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں گے ان کی اعلیٰ درجے کی نیکیوں کو سامنے رکھ کر ان کے اجر وثواب کا تعین کیا جائے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 96 and 97.
خدا کے داعی کا ساتھ دینا رواج یافتہ مذہبی نظام کو چھوڑ کر غیر رواجی مذہب کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنا ہے۔ اس طرح کا اقدام ہمیشہ آدمی کے لیے مشکل ترین ہوتا ہے۔ اس میں اس فائدہ کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے جو انسانوں سے مل رہا ہے۔ اور اس فائدہ کی طرف بڑھنا ہوتاہے جو خدا سے ملنے والا ہے۔
اس قسم کا فیصلہ کرنے کے لیے واحد چیز جو درکار ہے وہ ’’صبر‘‘ ہے۔ یعنی یہ برداشت کہ آدمی کل کے فائدہ کی خاطر آج کا نقصان گوارا کرسکے۔ یہ صلاحیت کہ آدمی نظر آنے والی چیز کے مقابلہ میں اس کو زیادہ اہمیت دے سکے جو نظر نہیںآتی۔ یہ حوصلہ کہ آدمی قربانی کی قیمت پر کسی چیز کو اختیار کرے، نہ کہ محض فوری نفع کی قیمت پر۔ خدا کے جو بندے اس اولوالعزمی کا ثبوت دیں یقینا وہ اس قابل ہیں کہ خدا ان کو اپنی اعلیٰ ترین نعمتوں سے نوازے۔
جو افراد بے آمیز حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے مروجہ نظام میں نقصان اٹھاتے ہیں۔ ان کو لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ برباد ہوگئے۔ مگر خدا کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو ان کی قربانیوں کا بھر پور معاوضہ دے گا۔ موت کے بعد کی ابدی دنیا میں وہ انھیں نہایت بہتر زندگی سے نوازے گا۔ جن چیزوں کو انھوں نے وقتی طورپر کھویا ہے، ان کو وہ زیادہ بہتر شکل میں ابدی طور پر دے دے گا۔
خدا کا یہ وعدہ عورتوں کے لیے بھی اسی طرح ہے جس طرح وہ مردوں کے لیے ہے۔ خدا کے یہاں جزا کے معاملہ میں عورت اور مرد کی کوئی تقسیم نہیں۔