Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:87 Prev 16:85


Arabic

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ شُرَكَآءَهُمۡ قَالُواْ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا ٱلَّذِينَ كُنَّا نَدۡعُواْ مِن دُونِكَۖ فَأَلۡقَوۡاْ إِلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلَ إِنَّكُمۡ لَكَٰذِبُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور جب وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں شرک کیا تھا اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے “اے پروردگار، یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے” اس پر اُن کے وہ معبود انہیں صاف جواب دیں گے کہ “تم جھوٹے ہو


English (Sahih International)

And when those who associated others with Allah see their “partners,” they will say,” Our Lord, these are our partners [to You] whom we used to invoke besides You.” But they will throw at them the statement, “Indeed, you are liars


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ شرک کا ارتکاب کرنے والے یہ لوگ محشر میں جب ان مقدس ہستیوں کو دیکھیں گے جن کے نام کی وہ دنیا میں دہائی دیا کرتے تھے تو پکار اٹھیں گے کہ اے اللہ ! یہ ہیں وہ ہستیاں جنہیں ہم پکارا کرتے تھے آپ کو چھوڑ کر۔ مثلاً حضرت عبدالقادر جیلانی کے نام کی دہائی دینے والے جب وہاں آپ کو بلند مراتب پر فائز دیکھیں گے تو آپ کو پہچان کر ایسے کہیں گے۔ اور حضرت عیسیٰ کو اللہ کا شریک ٹھہرانے والے جب آپ کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے کہ یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم جنہیں ہم اللہ کا چہیتا بیٹا سمجھتے تھے اور ہمارا عقیدہ تھا کہ وہ سولی پر چڑھ کر ہمارے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کرچکے ہیں۔یہ تمام مقدس ہستیاں وہاں مشرکین کے مشرکانہ عقائد سے اظہارِ برأت کریں گی کہ ہمارا تم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ تم لوگ دنیا میں ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور اللہ کے سوا ہمیں پکارا کرتے تھے۔ قبل ازیں یہ مضمون سورة یونس کی آیت 28 اور 29 میں بھی گزر چکا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 86 to 88.

قیامت میں یہ حقیقت آخری حد تک کھل جائے گی کہ اس کائنات میںایک خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ اس وقت جب پوجنے والے اپنے ان معبودوں کو دیکھیں گے جن کو وہ پوجتے تھے تو وہ ایسی باتیںکہیں گے جن سے ان کی برأت ثابت ہوتی ہو۔ گویا کہ یہ جھوٹے معبود دھوکا دے کر ان سے غیر خدا کی پرستش کراتے رہے۔ مگر وہ معبود فوراً اس کی تردید کریںگے اور کہیں گے کہ یہ تمھاری اپنی سرکشی تھی۔ تم نے خدا کی تابعداری سے بچنے کے لیے بطور خود جھوٹے معبود گھڑے اور ان کے نام پر اپنے خواہش پرستانہ مذہب کو جائز ثابت کرتے رہے۔

ایک وہ شخص ہے جو حق کی دعوت کو قبول نہیں کرتا۔ د وسرا وہ ہے جو اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی طرح طرح سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلی روش اگر گمراہی ہے تو دوسری روش گمراہی کی قیادت۔ گمراہ لوگوں کو جو عذاب ہوگا، اس کا دگنا عذاب ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں گمراہی کی قیادت کرتے رہے۔


Connections

  • Previous: 16_85
  • Next: 16_87
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes