Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:85 Prev 16:83


Arabic

وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدٗا ثُمَّ لَا يُؤۡذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(اِنہیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اُس روز کیا بنے گی) جبکہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو نہ حجتیں پیش کرنے کا موقع دیا جائیگا نہ ان سے توبہ و استغفار ہی کا مطالبہ کیا جائے گا


English (Sahih International)

And [mention] the Day when We will resurrect from every nation a witness. Then it will not be permitted to the disbelievers [to apologize or make excuses], nor will they be asked to appease [Allah]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 84 and 85.

آیت 84 وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًاشہادتِ حق کا یہ مضمون اس سورت میں دو مرتبہ مزید ملاحظہ ہو آیت 89 آیا ہے۔ جبکہ قبل ازیں سورة البقرۃ کی آیت 143 اور سورة النساء کی آیت 41 میں بھی اس کا ذکر ہے۔ آیت زیر نظر میں ہر امت میں سے جس گواہ کا ذکر ہے وہ اس امت کا نبی یا رسول ہوگا۔ جیسا کہ سورة الاعراف میں فرمایا گیا : فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ ”ہم ضرور پوچھیں گے ان سے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے“۔ روز محشر ہر امت کی پیشی کے وقت اس امت کا رسول عدالت کے سرکاری گواہ prosecution witness کی حیثیت سے گواہی دے گا کہ اے اللہ ! تیری طرف سے جو پیغام مجھے اس قوم کے لیے ملا تھا وہ میں نے بےکم وکاست ان تک پہنچا دیا تھا۔ اب یہ لوگ جو ابدہ ہیں ‘ ان سے محاسبہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح تمام انبیاء و رسل اپنی اپنی امت کے خلاف گواہی دیں گے۔ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ اس وقت انہیں ایسا موقع فراہم نہیں کیا جائے گا کہ وہ عذر تراش کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرسکیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 84 and 85.

پیغمبر اور پیغمبر کے سچے پیروؤں کا قوموں کے سامنے حق کا داعی بن کر اٹھنا بظاہر ایک معمولی واقعہ معلوم ہوتاہے۔ دنیا نے عام طورپر ان واقعات کو اتنا کم اہم سمجھا ہے کہ ایک پیغمبر آخر الزماں کو چھوڑ کر کوئی بھی دوسرا پیغمبر نہیں جس کا کام اس کي معاصر تاریخوں میں قابل ذکر قرار پایاہو۔

مگر یہ کام اس وقت بے حد اہم اور بے حد سنگین بن جاتا ہے جب کہ اس کو آخرت سے جوڑ کر دیکھا جائے۔ کیوں کہ آخرت کی عظیم عدالت میں یہی پیغمبر اور داعی خدا کے گواہ ہوں گے اور انھیں کی گواہی پر لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جن افراد کے بارے میں گواہ یہ کہیں گے کہ انھوںنے حق کو مانا اور اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دیا وہ وہاں کی ابدی دنیا میں جنتی قرار پائیں گے۔ اور جن کے بارے میں خدا کے یہ گواہ بتائیں گے کہ انھوںنے حق کا انکار کیا اور اس کی اطاعت پر راضی نہیں ہوئے وہ ابدی جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔

کسی قوم میں خدا کے سچے داعی اٹھیں اور وہ قوم ان کی بات نہ مانے تو یہ اس کے مجرم ہونے کا قطعی ثبوت ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ قوم یہ کہنے کا حق کھو دیتی ہے کہ ہم کو قیامت اور جنت دوزخ کی خبر نہ تھی، اس لیے ہم کو آج کے دن سزا سے معاف رکھا جائے۔


Connections

  • Previous: 16_83
  • Next: 16_85
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes