Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:76 Prev 16:74


Arabic

۞ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبۡدٗا مَّمۡلُوكٗا لَّا يَقۡدِرُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَمَن رَّزَقۡنَٰهُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنٗا فَهُوَ يُنفِقُ مِنۡهُ سِرّٗا وَجَهۡرًاۖ هَلۡ يَسۡتَوُۥنَۚ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک تو ہے غلام، جو دوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھلے اور چھپے خوب خرچ کرتا ہے بتاؤ، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو) نہیں جانتے


English (Sahih International)

Allah presents an example: a slave [who is] owned and unable to do a thing and he to whom We have provided from Us good provision, so he spends from it secretly and publicly. Can they be equal? Praise to Allah! But most of them do not know


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 75 ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ اللہ تعالیٰ ان کے شرک کی نفی کے لیے یہ مثال بیان کر رہا ہے کہ ایک بندہ وہ ہے جو کسی کا غلام اور مملوک ہے ‘ اس کا کچھ اختیار نہیں ‘ وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًارزق میں مال علم اور صلاحیتیں سب شامل ہیں۔ یعنی وہ شخص مال بھی خرچ کر رہا ہے ‘ لوگوں کو تعلیم بھی دے رہا ہے ‘ اور کئی دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کو مستفید کر رہا ہے۔ هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ایک طرف اللہ کا وہ بندہ ہے جو اس کے دین کی خدمت میں مصروف ہے ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض سر انجام دے رہا ہے ‘ لوگوں میں دین کی تعلیم کو عام کر رہا ہے ‘ یا اگر صاحب ثروت ہے تو اپنا مال اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے خرچ کر رہا ہے اور محتاجوں کی مدد کر رہا ہے۔ جب کہ دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جس کے پاس کچھ اختیار وقدرت نہیں ہے ‘ وہ اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ تو یہ دونوں برابر کیسے ہوسکتے ہیں ؟


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

مشرکانہ تمثیلات کی غلطی واضح کرنے کے لیے یہاں ایک سادہ اور عام مثال دی گئی ہے۔ ایک شخص ہے جس کے پاس ہر قسم کے اسباب ہیں اور وہ ان کا ذاتی مالک ہے۔ وہیں دوسرا شخص ہے جوکسی بھی چیز کا ذاتی مالک نہیں۔ یہ دونوں آدمی ایک دوسرے سے نوعی طورپر مختلف ہیں۔ اس لیے ایک کی مثال دوسرے پر کبھی چسپاں نہیں ہوگی۔ پھر خدا اور بندے میں یہ نوعی فرق تو اپنے کمال پر پہنچا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ انسان کے واقعات سے خدا پر مثال قائم کی جائے۔اس کائنات میں خدا اور دوسری چیزوں کے درمیان جو تقسیم ہے وہ خالق اور مخلوق کی تقسیم ہے، نہ کہ خدا اور شریکِ خدا کی ۔ خدا کی ہستی وہ ہستی ہے جو ہر قسم کے کمالات کا ذاتی سرچشمہ ہے۔ جو ہر قسم کی نعمتوں کا تنہا بخشنے والا ہے۔ اس کائنات میں سب سے زیادہ خلافِ واقعہ بات یہ ہے کہ خدا کے سوا کسی اور کے لیےوہ چیزیں فرض کی جائیں جن میں کوئی اس کا شریک نہیں۔


Connections

  • Previous: 16_74
  • Next: 16_76
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes