Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱللَّهُ فَضَّلَ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ فِي ٱلرِّزۡقِۚ فَمَا ٱلَّذِينَ فُضِّلُواْ بِرَآدِّي رِزۡقِهِمۡ عَلَىٰ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَهُمۡ فِيهِ سَوَآءٌۚ أَفَبِنِعۡمَةِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور دیکھو، اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیر دیا کرتے ہوں تاکہ دونوں اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے اِن لوگوں کو انکار ہے؟
English (Sahih International)
And Allah has favored some of you over others in provision. But those who were favored would not hand over their provision to those whom their right hands possess so they would be equal to them therein. Then is it the favor of Allah they reject
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 71 وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ رزق سے مراد صرف مادی اسباب و وسائل ہی نہیں بلکہ اس میں انسان کی جسمانی و ذہنی صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔ مادی وسائل کی کمی بیشی کے بارے میں تو کوئی سوشلسٹ یا کمیونسٹ اعتراض کرسکتا ہے کہ یہ غلط تقسیم اور غلط نظام کا نتیجہ ہے جس کا ذمہ دار خود انسان ہے مگر یہ امر اپنی جگہ اٹل حقیقت ہے کہ ہر انسان کی ذہنی استعداد اور جسمانی طاقت ایک سی نہیں ہوتی۔ جینز genes کے ذریعے وراثت میں ملنے والی تمام صلاحیتیں بھی سب انسانوں میں برابر نہیں ہوتیں پھر اس میں کسی کے اختیار و انتخاب کو بھی کوئی دخل نہیں ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے مادی اسباب و وسائل کے علاوہ ذاتی صلاحیتوں میں بھی مختلف انسانوں کو مختلف اعتبار سے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔فَمَا الَّذِيْنَ فُضِّلُوْا بِرَاۗدِّيْ رِزْقِهِمْ عَلٰي مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيْهِ سَوَاۗءٌیعنی ایسا تو نہیں ہوتا کہ امراء اپنی دولت اور جائیدادیں اپنے غلاموں میں تقسیم کردیں اور انہیں بھی اپنے ساتھ ان جائیدادوں کا مالک بنا لیں۔ تو اگر تم لوگ اپنے غلاموں کو اپنے ساتھ اپنی ملکیت میں شریک نہیں کرتے تو کیا اللہ تمہارے جھوٹے معبودوں کو اپنے برابر کرلے گا ؟ اور یہ جو ان لوگوں کا خیال ہے کہ ایک بڑا خدا ہے اور کچھ چھوٹے چھوٹے خدا ہیں اور یہ چھوٹے خدا بڑے خدا سے ان کی سفارش کریں گے تو کیا اللہ پر ان میں سے کسی کی دھونس چل سکے گی یا اللہ ان میں سے کسی کو یہ اختیار دے گا کہ وہ اس سے اپنی کوئی بات منوالے ؟
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
یہاں ایک سادہ سی مثال کے ذریعہ اس عقیدہ کو غلط ثابت کیاگیا ہے کہ خدا کے کچھ شریک ہیں۔ اور اس نے اپنے اختیارات کا ایک حصہ اپنے ان شریکوں کو دے دیا ہے۔ وہ مثال یہ کہ دنیا میں روزی کی تقسیم یکساں نہیں۔ عام طورپر دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی کے پاس بہت زیادہ ہوتا ہے اور کسی کے پاس اتنا کم ہوتاہے کہ وہ زیادہ والے کے یہاں نوکر اور غلام بننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اب کوئی بھی زیادہ والا ایسا نہیں کرتا کہ اپنی دولت اپنے نوکروں میں بانٹ دے اور اس طرح اپنا اور نوکروں کا فرق مٹا کر یکساں ہوجائے۔ پھر خدا کے بارے میں یہ ماننا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنے اختیارات دوسروں کو تقسیم کردیے ہیں۔
کوئی شخص اپنی بڑائی کا آپ انکار نہیں کرتا۔ پھر جو بات ایک انسان بھی پسند نہیں کرتا، حالانکہ اس کے پاس کوئی ذاتی اثاثہ نہیں، اس بات کو خدا کیوں پسند کرے گا جس کے پاس جو کچھ ہے اس کا اپنا ذاتی ہے۔ کسی دوسرے کا دیا ہوا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام عقیدے خدا کی ہستی کی نفی کررہے ہیں۔ وہ خدا کوغیر خدا کی سطح پر پہنچا رہے ہیں جو کسی حال میں ممکن نہیں۔