Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱللَّهُ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَسۡمَعُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(تم ہر برسات میں دیکھتے ہو کہ) اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور یکا یک مردہ پڑی ہوئی زمین میں اُس کی بدولت جان ڈال دی یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لیے
English (Sahih International)
And Allah has sent down rain from the sky and given life thereby to the earth after its lifelessness. Indeed in that is a sign for a people who listen
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ یہ نشانی ان لوگوں کے لیے ہے جن کا سننا حیوانوں کا سا سننا نہ ہو بلکہ انسانوں کا سا سننا ہو۔ علامہ اقبال نے ”زبور عجم“ میں کیا خوب کہا ہے : دم چیست ؟ پیام است ‘ شنیدی ‘ نشنیدی !در خاک تو یک جلوۂ عام است ندیدی ؟دیدن دگر آموز ! شنیدن دگر آموز !یعنی سانس جو تم لیتے ہو یہ بھی اللہ کا ایک پیغام ہے ‘ یہ الگ بات ہے کہ تم اس پیغام کو سنتے ہو یا نہیں سنتے ہو۔ یہ درست ہے کہ تم خاک سے بنے ہو ‘ مگر تمہارے اسی خاکی وجود کے اندر ایک نور اور جلوۂ ربانی بھی موجود ہے۔ یہ روح ربانی جو تمہارے وجود میں پھونکی گئی ہے یہ جلوہ ربانی ہی تو ہے ‘ جسے تم دیکھتے ہی نہیں ہو۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ تمہارے اندر کیا کیا کچھ موجود ہے : وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ الذاریات ”اور تمہارے اندر کیا کچھ ہے ‘ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“ ذرا دوسری طرح کا دیکھنا اور دوسری طرح کا سننا سیکھو ! ایسا دیکھنا سیکھو جو چیزوں کی اصلیت کو دیکھ سکے اور ایسا سننے کی صلاحیت حاصل کرو جس سے تمہیں حقیقت کی پہچان نصیب ہو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ دیکھنا اور یہ سننا محض حیوانوں کا سا دیکھنا اور سننا ہے۔ اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا !اس سورة میں تکرار کے ساتھ اہل فکر و دانش کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر ‘ سن کر اور سمجھ کر سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ آیت زیر نظر کے علاوہ ملاحظہ ہوں آیات 11 ‘ 12 ‘ 67 ‘ 69 اور 79
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
بارش اور نباتات کا نظام اپنے اندر بہت بڑا سبق رکھتا ہے۔ مختلف عوامل کی متحدہ کارفرمائی سے پانی کے قطرے فضا میں جاکر دوبارہ زمین پر بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ پھر یہ بارش حیرت انگیز طورپر زمین پر سبزہ اگانے کا سبب بنتی ہے۔
اس واقعہ میں ایک طرف یہ سبق ہے کہ اس کائنات میں چاروں طرف ایک خدا کی کارفرمائی ہے۔ اگر یہاں کئی خداؤں کی کارفرمائی ہوتی تو کائنات کی مختلف طاقتیں اس طرح ہم آہنگ ہو کر مشترکہ عمل نہیں کرسکتی تھیں۔ کائنات کے نظام کی وحدانیت واضح طورپر اس کاثبوت ہے کہ اس کا خالق و مالک صرف ایک ہے، نہ کہ ایک سے زیادہ۔دوسرا سبق یہ ہے کہ خدا کی قدرت اتنی عظیم ہے کہ وہ مردہ جسم میں زندگی پیدا کرسکتی ہے۔ وہ سوکھی ہوئی چیزوں میں ہریالی، رنگ، خوشبو اور مزہ کا باغ اگا سکتی ہے۔
پہلے واقعہ میں توحید کا ثبوت ہے، اور دوسرا واقعہ تمثیل کے روپ میں بتا رہا ہے کہ اسی طرح انسانی روحوں کے لیے بھی ایک خدائی بارش ہے، اور وہ وحی ہے۔ جو شخص اپنی مردہ اور سوکھی ہوئی روح کو نئی زندگی دینا چاهے، اسے اپنے آپ کو وحی خداوندی کی بارش میں نہلانا چاہیے۔