Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:63 Prev 16:61


Arabic

وَيَجۡعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكۡرَهُونَۚ وَتَصِفُ أَلۡسِنَتُهُمُ ٱلۡكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ ٱلنَّارَ وَأَنَّهُم مُّفۡرَطُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

آج یہ لوگ وہ چیزیں اللہ کے لیے تجویز کر رہے ہیں جو خود اپنے لیے اِنہیں ناپسند ہیں، اور جھوٹ کہتی ہیں اِن کی زبانیں کہ اِن کے لیے بھلا ہی بھلا ہے اِن کے لیے تو ایک ہی چیز ہے، اور وہ ہے دوزخ کی آگ ضرور یہ سب سے پہلے اُس میں پہنچائے جائیں گے


English (Sahih International)

And they attribute to Allah that which they dislike, and their tongues assert the lie that they will have the best [from Him]. Assuredly, they will have the Fire, and they will be [therein] neglected


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 62 وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا يَكْرَهُوْنَ یعنی ان میں سے کوئی بھی خود بیٹی کا باپ بننا پسند نہیں کرتا مگر اللہ کے ساتھ بیٹیاں منسوب کرتے ہوئے یہ لوگ ایسا کچھ نہیں سوچتے۔وَتَصِفُ اَلْسِـنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰىیہ لوگ اس زعم میں ہیں کہ دنیا میں انہیں عزت ‘ دولت اور سرداری ملی ہوئی ہے ‘ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ ان سے خوش ہے اور انہیں یہ خوش فہمی بھی ہے کہ اگر اس نے یہاں انہیں یہ سب کچھ دیا ہے تو آخرت میں بھی وہ ضرور انہیں اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔ چناچہ دنیا ہو یا آخرت ان کے لیے تو بھلائی ہی بھلائی ہے۔لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ دنیا میں ان کی رسی دراز کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی میں جس حد تک جری ہو کر آگے بڑھ سکتے ہیں بڑھتے چلے جائیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

انسانی گمراہیوں کی بہت بڑی وجہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ کرنا ہے۔ اکثر غلط عقائد اسی لیے بنے کہ خدا کو اس سے کم سمجھ لیاگیا جیسا کہ وہ حقیقۃً ہے۔ حتی کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جو چیزیں کمتر سمجھ کر وہ خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے (مثلاً بیٹیاں یااپنی مِلک میں کسی اجنبی کی شرکت)، اس کو بھی وہ خداکے لیے ثابت کرنے لگتے ہیں۔

خدا کے اسی کمتر اندازہ کا نتیجہ ہے کہ لوگ خدا پر عقیدہ رکھتے ہوئے خدا سے بے خوف رہتے ہیں۔ وہ نہایت معمولی معمولی چیزوں کے بارے میں یہ عقیدہ بنا لیتے ہیں کہ وہ ان کو خدا کی قربت دے دیں گی۔ اور آخرت کی تمام نعمتیں ان کے حصے میں لکھ دی جائیں گی۔ جو چیز ایک عام انسان کو بھی خوش نہیں کرسکتی اس کے متعلق یہ عقیدہ بنالیا جاتا ہے کہ وہ خداکو خوش کردے گی۔ اس قسم کی کوئی حرکت غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے جس کو خدا کبھی معاف نہیں کرسکتا۔


Connections

  • Previous: 16_61
  • Next: 16_63
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes