Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:44 Prev 16:42


Arabic

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے محمدؐ، ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے


English (Sahih International)

And We sent not before you except men to whom We revealed [Our message]. So ask the people of the message if you do not know


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 43 وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ یعنی آپ پہلے نبی یا رسول نہیں ہیں بلکہ آپ سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں۔ وہ سب کے سب آدمی ہی تھے اور ان کی طرف ہم اسی طرح وحی بھیجتے تھے جس طرح آج آپ کی طرف وحی آتی ہے۔ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی اے اہل مکہ ! اگر تم لوگوں کو اس بارے میں کچھ شک ہے تو تمہارے پڑوس مدینہ میں وہ لوگ آباد ہیں جو سلسلۂ وحی و رسالت سے خوب واقف ہیں ان سے پوچھ لو کہ اب تک جو انبیاء و رسل اس دنیا میں آئے ہیں وہ سب کے سب انسان تھے یا فرشتے ؟


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 43 and 44.

’’اہل علم‘‘ سے مراد یہاں اہل کتاب ہیں۔ یا وہ لوگ جو پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے تاریخی حالات کا علم رکھتے ہیں۔ جو چیز ان سے پوچھنے کے لیے فرمائی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ بلکہ یہ کہ پچھلے زمانوں میں جو پیغمبر آئے وہ انسان تھے یا غیر انسان۔ مکہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انسان ہونے کو اس بات کی دلیل بناتے تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر نہیں ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ جن قوموں میں اس سے پہلے پیغمبر آتے رہے ہیں (مثلاً یہود)، ان سے پوچھ کر معلوم کرلو کہ ان کے یہاں جو پیغمبر آئے وہ انسان تھے یا فرشتے۔

پیغمبر صرف ’’یاد دہانی‘‘ کے لیے آتا ہے، یہ یاد دہانی اصلاً دلائل کے ذریعہ ہوتی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اپنے آپ کو اس معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ثابت کرے۔ اگر ایک شخص لوگوں کو جنت اور جہنم سے باخبر کرے اور اسی کے ساتھ وہ ایسے کاموں میں مشغول ہوجو جنت اور جہنم کے معاملہ میں اس کو غیر سنجیدہ ثابت کرتے ہوں تو اس کا دعوتی کام لوگوں کی نظر میں مذاق بن کر رہ جائے گا۔

تاہم دعوت خواہ کتنے ہی اعلیٰ درجہ پر او رکتنے ہی کامل انداز میں پیش کردی جائے اس سے وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو خود بھی اس پردھیان دیں۔ جو لوگ دھیان نہ دیں وہ کسی بھی حالت میں دعوت حق سے فیض ياب نہیں ہوسکتے۔


Connections

  • Previous: 16_42
  • Next: 16_44
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes