Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْ لَنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗۖ وَلَأَجۡرُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کر گئے ہیں ان کو ہم دنیا ہی میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش جان لیں وہ مظلوم
English (Sahih International)
And those who emigrated for [the cause of] Allah after they had been wronged - We will surely settle them in this world in a good place; but the reward of the Hereafter is greater, if only they could know
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
The commentary on this ayah is given with ayah 16:40.
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 41 and 42.
اکثر مفسرین نے اس آیت کو ان 80 صحابہ سے متعلق مانا ہے جو مکہ میں مخالفین اسلام کی زیادتیوں کا نشانہ بن رہے تھے اور بالآخر اپنا وطن چھوڑ کر حبش چلے گئے۔ یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پہلے مکی دور میں پیش آیا۔
حق کے معاملہ میں ہمیشہ دو گروہ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو حق کو اتنی اہمیت نہ دیں کہ اس کی خاطر ملی ہوئی چیزوں کو چھوڑیں یا اپنی زندگی کا نقشہ بدلیں۔ دوسرے وہ لوگ جو حق کو اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ وہی ان کے نزدیک سب سے اہم چیز بن جاتا ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر تکلیف کو سہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ حق کو اپنا اہم ترین مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ وہ ہر دوسری چیز کو چھوڑ سکتے ہیں مگر حق کو نہیں چھوڑ سکتے۔
ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے گروہوں کا انجام یکساں نہیںہوسکتا۔ جن لوگوں نے حق کو اپنی زندگی میں اہم ترین مقام دیا وہ خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق ٹھہریںگے۔ اور جن لوگوں نے حق کو نظر انداز کیا انھیں خدا بھی نظر انداز کردے گا۔ وہ خدا کے یہاں کوئی عزت کا مقام نہیں پاسکتے اور نہ وہ خدا کی نعمتوں میں حصہ دار بن سکتے۔