Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:39 Prev 16:37


Arabic

وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَا يَبۡعَثُ ٱللَّهُ مَن يَمُوتُۚ بَلَىٰ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقّٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ “اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کر کے نہ اٹھائے گا” اٹھائے گا کیوں نہیں، یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں


English (Sahih International)

And they swear by Allah their strongest oaths [that] Allah will not resurrect one who dies. But yes - [it is] a true promise [binding] upon Him, but most of the people do not know


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 38 وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ مشرکین مکہ اگرچہ عمومی طور پر مرنے کے بعد دوسری زندگی کے قائل تھے مگر ان کا اس سلسلہ میں عقیدہ یہ تھا کہ جن بتوں کی وہ پوجا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان کے سفارشی ہوں گے اور اس طرح روز حشر کی تمام سختیوں سے وہ انہیں بچا لیں گے۔ لیکن ان کے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو بعث بعد الموت کا منکر تھا۔ ان لوگوں کے اس عقیدہ کا تذکرہ قرآن میں متعدد بار ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ان لوگوں کا قول اس طرح نقل کیا گیا ہے : وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ ”اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے یہ ہماری زندگی مگر صرف دنیا کی اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 38 to 40.

موجودہ دنیا کچھ اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں حق اور ناحق اس طرح ثابت نہیں ہوپاتے کہ کسی کے لیے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے۔ یہاں آدمی ہر دلیل کو کاٹنے کے لیے کچھ الفاظ پالیتاہے۔ ہر ثابت شدہ چیز کو مشتبہ کرنے کے لیے وہ کوئی نہ کوئی بات نکال ليتا ہے۔

یہ بات کائنات کے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔ مادی علوم میں آدمی کے لیے ممکن ہوتاہے کہ وہ قطعی نتائج تک پہنچ سکے۔ اسی طرح یہ بھی ضرور ہونا چاہیے کہ انسانی معاملات میں قطعی حقائق کھل کر سامنے آجائیں۔ یہی وہ کام ہے جو قیامت میں انجام پائے گا۔ شاہ عبد القادر دہلوی لکھتے ہیں— ’’اس جہان میں بہت باتوں کا شبہ رہا۔ کسی نے اللہ کو مانا اور کوئی اس کا منکر رہا تو دوسرا جہان ہونا لازم ہے کہ جھگڑے تحقیق ہوں۔ سچ اور جھوٹ جدا ہو اور مطیع اور منکر اپنا کیا پائیں‘‘۔


Connections

  • Previous: 16_37
  • Next: 16_39
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes