Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ أَوۡ يَأۡتِيَ أَمۡرُ رَبِّكَۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے محمدؐ، اب جو یہ لوگ انتظار کر رہے ہیں تو اِس کے سوا اب اور کیا باقی رہ گیا ہے کہ ملائکہ ہی آ پہنچیں، یا تیرے رب کا فیصلہ صادر ہو جائے؟ اِس طرح کی ڈھٹائی اِن سے پہلے بہت سے لوگ کر چکے ہیں پھر جو کچھ اُن کے ساتھ ہوا وہ اُن پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ اُن کا اپنا ظلم تھا جو اُنہوں نے خود اپنے اوپر کیا
English (Sahih International)
Do the disbelievers await [anything] except that the angels should come to them or there comes the command of your Lord? Thus did those do before them. And Allah wronged them not, but they had been wronging themselves
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 33 and 34.
آیت 33 هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ گزشتہ بارہ برس سے رسول اللہ قریش مکہ کو دعوت دے رہے ہیں ‘ دو تہائی کے قریب قرآن بھی اب تک نازل ہوچکا ہے۔ چناچہ ان لوگوں کو اب مزید کس چیز کا انتظار ہے ؟ اب تو بس یہی مرحلہ باقی رہ گیا ہے کہ فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر پہنچ جائیں اور وہ نقشہ سامنے آجائے جس کی جھلک سورة الفجر میں اس طرح دکھائی گئی ہے : وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَلا یَوْمَءِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی ”اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف بہ صف۔ اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن ہوش آئے گا انسان کو مگر کیا فائدہ ہوگا تب اسے اس ہوش کا !“ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ جن گزشتہ اقوام کے عبرت ناک انجام کے بارے میں تفصیلات قرآن میں بتائی جا رہی ہیں انہیں ان کے اپنے کرتوتوں کی سزا ملی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قطعاً ظلم نہیں ہوا تھا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 33 and 34.
خدا کی بات انسان کے سامنے اولاً دلائل کے ذریعے بیان کی جاتی ہے۔ یہ دعوتی مرحلہ ہوتا ہے۔ اگر وہ دلائل کے ذریعے نہ مانے تو پھر وہ وقت آجاتا ہے جب کہ انفرادی موت یا اجتماعی قیامت کی صورت میں اس کو لوگوں کے سامنے کھول دیا جائے۔
آدمی کے سامنے اگر خدا کی بات دلائل کے ذریعے آئے اور وہ ا س کو نظر انداز کردے تو گویا وہ اس دوسرے مرحلہ کا انتظار کررہا ہے جب کہ خدا اور اس کے فرشتے ظاہر ہوجائیں اور آدمی اس بات کو ذلت کے ساتھ ماننے پر مجبور ہوجائے جس کو اسے عزّت کے ساتھ ماننے کا موقع دیا گیا تھا، مگر اس نے نہیں مانا۔