Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞وَقِيلَ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ مَاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمۡۚ قَالُواْ خَيۡرٗاۗ لِّلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٞۚ وَلَدَارُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞۚ وَلَنِعۡمَ دَارُ ٱلۡمُتَّقِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
دوسری طرف جب خدا ترس لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے جو تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ “بہترین چیز اتری ہے” اِس طرح کے نیکوکار لوگوں کے لیے اِس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے حق میں بہتر ہے بڑا اچھا گھر ہے متقیوں کا
English (Sahih International)
And it will be said to those who feared Allah, “What did your Lord send down?” They will say, “[That which is] good.” For those who do good in this world is good; and the home of the Hereafter is better. And how excellent is the home of the righteous
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 30 and 31.
آیت 30 وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جن کے دلوں میں اخلاقی حس بیدار اور جن کی روحیں زندہ ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ جو کلام آپ لوگوں کو سناتے ہیں وہ کیا ہے ؟قَالُوْا خَیْرًا یعنی یہ کلام خیرہی خیر ہے اور ہماری ہی بھلائی کے لیے نازل ہوا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 30 to 32.
جو لوگ کبر کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ خدا کی بات سنتے ہیں تو ان کا ذہن الٹی سمت میں چلنے لگتا ہے۔ اس بنا پر وہ اس سے نصیحت نہیں لے پاتے۔ مگر جس شخص کے دل میں اللہ کا ڈر ہو وہ خدا کی بات کو پوری آمادگی کے ساتھ سنے گا۔ ایسے شخص کے لیے اللہ کا کلام معرفت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کو اس کے اندر حقیقت کی جھلکیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔
جنت کی صفت یہ ہے کہ وہاں وہ سب کچھ ہے جو انسان چاہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو کبھی کسی انسان کو، حتی کہ بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہ ہوسکی۔ موجودہ دنیا میں انسان کی محدودیت اور خارجی حالات کی عدم موافقت کی بناپر کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے اسے حاصل کرلے۔ یہ تصور کہ ’’جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جو انسان چاہے گا‘‘ اتنا پر کیف ہے کہ اس کی خاطر جو قربانی بھی دینی پڑے وہ یقیناً ہلکی ہے۔