Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:29 Prev 16:27


Arabic

ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡۖ فَأَلۡقَوُاْ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعۡمَلُ مِن سُوٓءِۭۚ بَلَىٰٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہاں، اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو (سرکشی چھوڑ کر) فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں “ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے” ملائکہ جواب دیتے ہیں “کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے


English (Sahih International)

The ones whom the angels take in death [while] wronging themselves, and [who] then offer submission, [saying], “We were not doing any evil.” But, yes! Indeed, Allah is Knowing of what you used to do


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 28 and 29.

آیت 28 الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ایسے لوگ جنہیں اپنی زندگی میں اللہ یاد ہے نہ آخرت نیکی کی رغبت ہے نہ برائی سے نفرت بس اپنی عیش کوشی اور نفس پرستی میں مگن ہیں۔ اسی حالت میں جب فرشتے ان کے پاس پروانۂ موت لے کر آ دھمکیں گے :بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ موت کے فرشتوں کے سامنے وہ سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے اسلام اور اطاعت کا اظہار کریں گے اور اس طرح ان کے سامنے بھی جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 28 and 29.

تکبر سب سے بڑا جرم ہے۔خدا انسان کی ہر غلطی معاف کردے گا مگر وہ تکبر کو معاف نہیں کرے گا۔تکبر کے اظہار کی دو بڑی صورتیں ہیں۔ ایک تکبر وہ جو عام بندوں کے درمیان ظاہر ہوتا ہے ۔ ایک آدمی طاقت، دولت اور دیگر سازوسامان میں اپنے کو دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ پاتا ہے، اس بنا پر وہ اس سے تکبر کرنے لگتا ہے۔

دوسرا زیادہ شدید تکبر وہ ہے جو داعیٔ حق کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خدا کا ایک بندہ خدا کے سچے دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے۔ اب جو لوگ جھوٹے دین کی بنیاد پر بڑائی کا مقام حاصل کيے ہوئے ہیں، وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اوپر اس کی زد پڑ رہی ہے۔ وہ سچے دین کے معیار پر بے قیمت قرار پارہے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ بپھر اٹھتے ہیں۔ اور داعیٔ حق کو متکبرانہ نفسیات کے ساتھ نظر انداز کردیتے ہیں۔

آدمی جب کسی کے مقابلہ میں تکبر کرتا ہے تو اس لیے کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ مگر جب موت کے فرشتے آئیں گے اور اس کو بے بس کردیں گے، اس وقت اس کو معلوم ہوگا کہ معاملہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خدا کا تھا، انسان کسی دوسرے انسان کے مقابلہ میں طاقت ور ہوسکتا ہے مگر خدا کے مقابلہ میں کون طاقت ور ہے۔ خداکے فرشتے جب انسان کو اپنے قبضہ میں لیتے ہیں تو اس وقت ہر آدمی ہتھیار ڈال دیتاہے۔ مگر اللہ کا سچّا بندہ وہ ہے جو اس موقع کے آنے سے پہلے خدا کے آگے ہتھیار ڈال دے۔


Connections

  • Previous: 16_27
  • Next: 16_29
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes