Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَدۡ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَأَتَى ٱللَّهُ بُنۡيَٰنَهُم مِّنَ ٱلۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّقۡفُ مِن فَوۡقِهِمۡ وَأَتَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے) ایسی ہی مکاریاں کر چکے ہیں، تو دیکھ لو کہ اللہ نے اُن کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آ رہی اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا
English (Sahih International)
Those before them had already plotted, but Allah came at their building from the foundations, so the roof fell upon them from above them, and the punishment came to them from where they did not perceive
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 26 قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ان سے پہلے بھی مختلف اقوام کے لوگوں نے ہمارے انبیاء و رسل کی مخالفت کی تھی اور ان کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزمائے تھے اور سازشیں کی تھیں۔فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَــرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آیا تو مخالفین کی تمام سازشوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا گیا اور ان کی بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا۔ سدوم اور عامورہ کی بستیوں کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں : فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ہود : 82 ”پھر جب آگیا ہمارا حکم تو ہم نے کردیا اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچے والا“۔ یعنی اس کو تہ وبالا کردیا۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم کے اندر تو صرف انہی چند اقوام کا ذکر آیا ہے جن سے اہل عرب واقف تھے ‘ ورنہ رسول تو ہر علاقے اور ہر قوم میں آتے رہے ہیں ‘ ازروئے الفاظ قرآنی : وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ الرعد ”اور ہر قوم کے لیے ایک راہنما ہے۔“ خود ہندوستان کے علاقے میں بھی بہت سے انبیاء ورسل کے مبعوث ہونے کے آثار ملتے ہیں۔ ہریانہ ‘ ضلع حصار ‘ جس علاقے میں میرا بچپن گزرا وہاں مختلف مقامات پر سیاہ رنگ کی راکھ کے بڑے بڑے ٹیلے موجود تھے جن کی کھدائی کے دوران بستیوں کے آثار ملتے تھے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے یہ اپنے زمانے کی پر رونق بستیاں تھیں ان کے باشندوں نے اپنے رسولوں کی نافرمانیاں کیں اور انہیں عذاب خداوندی نے جلا کر بھسم کر ڈالا۔ جس طرح پومپیائی پر لاوے کی بارش ہوئی اور پوری بستی جلتے ہوئے لاوے کے اندر دب گئی۔ اس علاقے میں دریائے سرسوتی بہتا تھا جو ہندوستان کا ایک بہت بڑا دریا تھا اور اسے مقدس مانا جاتا تھا دریائے گنگا بہت بعد کے زمانے میں وجود میں آیا آج دریائے سرسوتی کا کچھ پتا نہیں چلتا کہ یہ کہاں کہاں سے گزرتا تھا اور ماہرین آثار قدیمہ اس کی گزر گاہ تلاش کر رہے ہیں۔ یہ سب آثار بتاتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر مختلف زمانوں میں انبیاء و رسل آئے اور ان کی نافرمانیوں کے سبب ان کی قومیں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ ان آثار کی شہادتوں کے علاوہ کچھ ایسے مکاشفات بھی ہیں کہ مشرقی پنجاب کے جس علاقے میں شیخ احمد سرہندی کا مدفن ہے اس علاقے میں تیس انبیاء مدفون ہیں۔ واللہ اعلم !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 26 and 27.
جو لوگ جھوٹی بنیادوں پر بڑائی کا مقام حاصل کيے ہوئے ہیں، وہ جب کسی دعوتِ حق کو اٹھتا ہوا دیکھتے ہیں تو ان کو اپنے مقام کے لیے خطرہ محسوس ہونے لگتاہے۔ وہ اپنے مقام کے تحفظ کے لیے یہ تدبیر کرتے ہیں کہ دعوتِ حق کے خلاف ایسی فتنہ انگیز باتیں پھیلاتے ہیں جن سے عوام اس کے بارے میں مشتبہ ہوجائیں اور ا س کے گرد جمع نہ ہوسکیں۔
مگر دعوت حق کے خلاف ایسے لوگوں کی تدبیریں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔ مخالفین حق اپنی جن بنیادوں پر بھروسہ کررہے تھے عین وہی بنیادیں اس طرح کمزور ثابت ہوتی ہیں کہ ان کی چھت ان کے اوپر گرپڑتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتاہے کہ کوئی قدرتی زلزلہ ان کی بنیادوں کو ہلاکر ان کی تعمیرات کو ان کے اوپر گرادیتاہے۔ کبھی ان کے عوام ان کا ساتھ چھوڑ کر حق کی صفوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے مددگاروں کو کھو کر مجبور ہوجاتے ہیں کہ دعوتِ حق کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔ یہ انجام اپنی آخری اور تکمیلی صورت میں قیامت میں سامنے آئے گا۔ جب کہ منکرین اپنی ابدی ذلت کو دیکھیں گے اور کچھ نہ کرسکیں گے۔