Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَا قِيلَ لَهُم مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمۡ قَالُوٓاْ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جب کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے، تو کہتے ہیں “اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں
English (Sahih International)
And when it is said to them, “What has your Lord sent down?” They say, “Legends of the former peoples
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 24 وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ نبی اکرم کی دعوت کا چرچا جب مکہ کے اطراف و اکناف میں ہونے لگا تو لوگ اہل مکہ سے پوچھتے کہ محمد جو کہہ رہے ہیں کہ مجھ پر اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے تم لوگوں نے تو یہ کلام سنا ہے چناچہ تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ اس کے مضامین کیا ہیں ؟قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ کہ یہ کلام تو بس پرانے قصے کہانیوں پر مشتمل ہے۔ یہ سب گزشتہ قوموں کے واقعات ہیں جو ادھر ادھر سے سن کر ہمیں سنا دیتے ہیں اور پھر ہم پر دھونس جماتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 24 and 25.
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کی خبر دھیرے دھیرے عرب کے دوسرے قبائل میں پہنچی تو وہ ملاقات کے وقت مکہ کے سرداروں سے پوچھتے کہ جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے۔اس کے جواب میں مکہ کے سردار کوئی ایسی بات کہہ دیتے جس سے آپؐ کی شخصیت اور آپ کے کلام کے بارے میں لوگ شک میں مبتلا ہوجائیں (التفسیر المظہری، جلد5، صفحہ
334
)
اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بات کو بگڑے ہوئے الفاظ میں بیان کیا جائے۔ مثلاً قرآن میںپیغمبروں کا جو ذکر ہے اس کے متعلق وہ ’’پچھلے پیغمبروں کی تاریخ‘‘ کا لفظ بھی بول سکتے تھے، مگر اس کو انھوں نے ’’پچھلے لوگوں کے قصے کہانیوں‘‘ کا نام دے دیا۔
دعوت حق سے لوگوں کو اس طرح پھیرنا یا مشتبہ کرنا خدا کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن دگنا عذاب ہوگا۔ کیوں کہ وہ نہ صرف خود گمراہ ہوئے بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بنے۔