Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَفَمَن يَخۡلُقُ كَمَن لَّا يَخۡلُقُۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، دونوں یکساں ہیں؟ کیا تم ہوش میں نہیں آتے؟
English (Sahih International)
Then is He who creates like one who does not create? So will you not be reminded
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 17 اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ مشرکین عرب نے مختلف ناموں سے جو بت بنا رکھے تھے ان کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے۔ سورة یونس کی آیت 18 میں ان کے اس عقیدے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے : وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ ”اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں“۔ اللہ کے بارے میں ان کا ماننا تھا کہ وہ کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق ہے اور وہ یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ ان کے معبودوں کا اس تخلیق میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں۔ قرآن میں ان کے اس عقیدے کا بھی بار بار ذکر آیا ہے : وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ لقمان : 25 ”اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو لازماً یہی کہیں گے کہ اللہ نے !“ ان لوگوں کے اسی عقیدے کی بنیاد پر یہاں یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ تمہارے یہ خود ساختہ معبود ‘ جو کچھ بھی تخلیق کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ‘ کیا اس اللہ کی مانند ہوسکتے ہیں جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق ہے ؟ اور اگر تم تسلیم کرتے ہو کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو کیا پھر بھی تم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے ہو ؟
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 17 to 19.
دنیا میں جتنی چیزیں ہیں ان میں سے کسی کے اندر تخلیق (عدم سے وجود میں لانے) کی طاقت نہیں۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ یہ دنیا اپنی خالق آپ نہیں ہے۔ اس کا خالق وہی ہوسکتاہے جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ ایک چیز جو موجود نہیں ہے اس کو موجود کردے۔ اس لیے ایک خدا کا عقیدہ عین فطری ہے۔ کائنات کی توجیہہ ایک ایسے خداکو مانے بغیر نہیںہوسکتی جس کے اندر تخلیق کی صلاحیت کامل درجہ میں پائی جائے۔
مشرکین نے خدا کے سوا جتنے شریک خدا کے گھڑے ہیں یا منکرین نے خدا کو چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو خدا کا بدل بنانے کی کوشش کی ہے، ان میں سے کوئی بھی نہیں جس کے اندر ذاتی تخلیق کی صلاحیت ہو۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ شرک اور الحاد کے گھڑے ہوئے تمام خدا سراسر فرضی ہیں۔کیوں کہ جس کے اندر تخلیقی قوت نہ ہو اس کے متعلق یہ دعویٰ کرنا سراسر بے بنیاد ہے کہ وہ ایک موجود کائنات کا خدا ہے۔ جو خود ذاتی وجود نہ رکھتاہو وہ کس طرح دوسری چیز کو وجود دے سکتا ہے۔
خدا کو اپنے بندوں سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ اس کی نعمتوں پر شکر گزاری ہے۔ اگرچہ خدا کی نعمتیں اس سے زیادہ ہیں کہ کوئی شخص بھی ان کا واقعی شکر ادا کرسکے۔ مگر خدا بے نیاز ہے۔ وہ زیادہ نعمت کے لیے تھوڑا شکر بھی قبول کرلیتا ہے۔ تاہم یہ شکر حقیقی شکرہونا چاہیے، نہ کہ محض رسمی قسم کی حمد خوانی۔