Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:15 Prev 16:13


Arabic

وَهُوَ ٱلَّذِي سَخَّرَ ٱلۡبَحۡرَ لِتَأۡكُلُواْ مِنۡهُ لَحۡمٗا طَرِيّٗا وَتَسۡتَخۡرِجُواْ مِنۡهُ حِلۡيَةٗ تَلۡبَسُونَهَاۖ وَتَرَى ٱلۡفُلۡكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

وہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ تم اس سے ترو تازہ گوشت لے کر کھاؤ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو


English (Sahih International)

And it is He who subjected the sea for you to eat from it tender meat and to extract from it ornaments which you wear. And you see the ships plowing through it, and [He subjected it] that you may seek of His bounty; and perhaps you will be grateful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 41 وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّاسمندری خوراک ہمیشہ سے انسانی زندگی میں بہت اہم رہی ہے۔ دور جدید میں اس کی افادیت مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَاسمندر سے موتی اور بہت سی دوسری ایسی اشیاء نکالی جاتی ہیں جن سے زیورات اور آرائش و زیبائش کا سامان تیار ہوتا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

سمندر میں لوہے کا ٹکڑا ڈالیں تو فوراً ڈوب کر پانی کی تہ میں چلا جائے گا۔ مگر اسی لوہے کو جب جہاز کی شکل دے دی جائے تو وہ بھاری بوجھ لیے ہوئے سمندر میں تیرنے لگتا ہے اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچ جاتا ہے۔

یہ خدا کا خاص قانون ہے جس کے ذریعہ اس نے سمندر جیسی مہیب مخلوق کو انسان کے لیے کار آمد بنا رکھا ہے۔ اسی طرح سمندر کے اندر حیرت ناک انتظام کے تحت مچھلی کی صورت میں تازہ گوشت تیار کیا جاتا ہے اور اس کے اندر انسانی زینت کے لیے قیمتی موتی بنتے ہیں۔

خدا کے لیے انتظام دنیا کی دوسری صورتیں بھی ممکن تھیں۔ مثلاً ایسا ہوسکتا تھاکہ زمین پر سمندر نہ ہوں۔ یا انسان جس طرح خشکی پر چلتا ہے اسی طرح وہ سمندر میں چلنے لگے۔ مگر خدا نے ایسا نہیں کیا اس کا مقصد آدمی کے اندر شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔ آدمی جب اپنے پیروں سے سمندر میں نہ چل سکے اور کشتی اور جہاز پر بیٹھے تونہایت آسانی سے سمندر کو عبور کرنے لگے تو اس کو دیکھ کر قدرتی طورپرآدمی کے اندر شکر کا جذبہ موجزن ہوتاہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جس سمندر کو میں اپنے قدموں کے ذریعہ پار نہیں کرسکتا تھا، خدا نے کشتی اور جہاز کے ذریعہ اس کو پار کرنے کا انتظام کردیا۔ وہ فضا جس میں میں خود نہیں اڑ سکتا تھا، اس میں ہوائی جہاز کے ذریعہ نہایت تیز رفتاری کے ساتھ اُڑنے کی صورت پیدا کردی۔

اس قسم کے فرق نظام قدرت میں اسی لیے رکھے گئے ہیں کہ وہ انسان کے شعور کو جگائیں اور اس کے اندر اپنے رب کے لیے شکر اور احسان مندی کا جذبہ پیدا کریں۔


Connections

  • Previous: 16_13
  • Next: 16_15
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes