Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّمَا جُعِلَ ٱلسَّبۡتُ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
رہا سبت، تو وہ ہم نے اُن لوگوں پر مسلط کیا تھا جنہوں نے اس کے احکام میں اختلاف کیا، اور یقیناً تیرا رب قیامت کے روز ان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں
English (Sahih International)
The sabbath was only appointed for those who differed over it. And indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 124 اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَي الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ دراصل بنی اسرائیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے عبادت کے لیے جمعہ کا دن ہی مقرر فرمایا تھا مگر انہوں نے اپنی شرارت کی وجہ سے اس کی ناقدری کی اور اسے چھوڑ کر ہفتہ کا دن اختیار کرلیا۔ چناچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس حیثیت میں ہفتہ کا دن ہی مقرر کردیا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
ہفتہ کا ایک دن تمام شریعتوں میں اجتماعی عبادت کا دن رہاہے۔ یہود اس کو سنیچر (سبت) کے دن مناتے ہیں۔ عیسائی اتوار کے دن۔ اور مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ جمعہ کے دن اس کا اہتمام کریں۔
یہود کے بزرگوں نے موشگافیاں کرکے بطور خود سبت (sabbath) کے لیے نئے نئے ضوابط بنائے اور اپنے آپ کو مصنوعی پابندیوں میں جکڑ لیا۔ پھر جب ان پابندیوں پر عمل کرنا ان کو ناممکن معلوم ہوا تو اپنے بزرگوں کے تقدس کی وجہ سے وہ ان کو رد نہ کرسکے۔ البتہ عملی طورپر انھوںنے ان کے خلاف چلنا شروع کردیا۔
خداکے دین میں بعد کے عالموں اور بزرگوں نے اپنی تشریحات سے جو اختلافات پیدا کيے ان کا فیصلہ دنیا میں ہونے والا نہیں۔ مگر جب قیامت آئے گی تو خدا بتا دے گا کہ اصل آسمانی دین کیا تھا اور وہ کیا چیزیں تھیں جو لوگوں نے اپنی طرف سے اضافہ کرکے دین میں شامل کردیں۔