Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُواْ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ تَابُواْ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ وَأَصۡلَحُوٓاْ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعۡدِهَا لَغَفُورٞ رَّحِيمٌ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
البتہ جن لوگوں نے جہالت کی بنا پر برا عمل کیا اور پھر توبہ کر کے اپنے عمل کی اصلاح کر لی تو یقیناً توبہ و اصلاح کے بعد تیرا رب اُن کے لیے غفور اور رحیم ہے
English (Sahih International)
Then, indeed your Lord, to those who have done wrong out of ignorance and then repent after that and correct themselves - indeed, your Lord, thereafter, is Forgiving and Merciful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 119 ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌجو لوگ جذبات کی رو میں بہہ کر یا نادانی میں کوئی گناہ کر بیٹھیں ‘ پھر توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں اور غلط روش سے باز آجائیں تو ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ ضرور غفورو رحیم ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
جب برائی کے ساتھ سرکشی اور تعصب کے جذبات اكٹھا ہوجائیں تو آدمی اس سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، خواہ اس کے عمل کو غلط ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی دلائل دئے جائیں۔ مگر برائی کی دوسری قسم وہ هے جو محض نادانی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ آدمی بے خبری میں یا نفس سے مغلوب ہو کر کوئی غلطی کربیٹھتا ہے۔ ایسے آدمی کے اندر عام طورپر ڈھٹائی نہیں ہوتی۔ جب دلیل سے اس پر اس کی غلطی واضح ہوجائے تو وہ فوراً پلٹ آتاہے اور دوبارہ اپنے کو صحیح رویہ پر قائم کرلیتا ہے۔
پہلی قسم کے لوگوں کے لیے معافی کا کوئی سوال نہیں۔ مگر دوسری قسم کے لوگوں کے لیے یہ بشارت ہے کہ خداانھیں اپنی رحمتوں کے سایہ میں لے لے گا کیوں کہ وہ اپنے بندوں پر بہت زیادہ مہربان ہے۔