Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:104 Prev 16:102


Arabic

وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ أَنَّهُمۡ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٞۗ لِّسَانُ ٱلَّذِي يُلۡحِدُونَ إِلَيۡهِ أَعۡجَمِيّٞ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيّٞ مُّبِينٌ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہمیں معلوم ہے یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے


English (Sahih International)

And We certainly know that they say, “It is only a human being who teaches the Prophet.” The tongue of the one they refer to is foreign, and this Qur’an is [in] a clear Arabic language


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 103 وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌمشرکین رسول اللہ پر ایک الزام یہ لگا رہے تھے کہ آپ نے کسی عجمی غلام کو یا اہل کتاب میں سے کسی آدمی کو اپنے گھر میں چھپا رکھا ہے جو تورات کا عالم ہے۔ اس سے آپ یہ ساری باتیں سیکھتے ہیں اور پھر وحی کے نام پر ہمیں سناتے ہیں اور ہم پر دھونس جماتے ہیں۔لِسَانُ الَّذِيْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَمِيٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌچنانچہ یہ الزام لگاتے ہوئے ان کو خود سوچنا چاہیے کہ کوئی عجمی ایسی فصیح وبلیغ عربی زبان کیسے بول سکتا ہے !


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 103 to 105.

مکہ میں کچھ عجمی غلام تھے۔ ان کے نام تفسیر کی کتابوں میںحیر، یسار، عائش، یعیش وغیرہ آئے ہیں۔ اس ضمن میں سلمان فارسی کا نام بھی لیا گیا ہے جو بعد کو مسلمان ہوگئے۔ یہ غلام یا یہودی تھے یا نصرانی۔ اس بنا پر وہ قدیم آسمانی مذاہب، یہودیت اور نصرانیت کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ ان میں سے کسی کی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوجاتی تھی۔ اس طرح کی ملاقاتوں کو بنیاد بنا کر قریش کے لیڈروں نے کہا کہ ’’یہی عجمی لوگ محمد کو کچھ باتیں بتا دیتے ہیں اور وہ ان کو خدائی کلام بتا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں‘‘۔

یہ مضحکہ خیز بات انھوں نے کیوں کہی۔ اس کی وجہ وہی عام برائی ہے جو ہر زمانہ میں اور ہمیشہ دنیا میں پائی گئی ہے۔وہ ہے— اپنے ہم عصر کو میرٹ کی سطح پر نہ پہچاننا۔ قریش کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک معاصر شخصیت تھے، اس لیے وہ آپ کو پہچاننے اور آپ کی قدر کرنے میں ناکام رہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ جو لوگ معاصرانہ نفسیات کے فتنہ میں مبتلا ہوں وہ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ حق کو مان لینے کے بجائے یہ کرتے ہیں کہ حق کے علم بردار کے خلاف جھوٹی باتیں گھڑتے رہتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی حقیقتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں، اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر داعی کی شخصیت کو بدنام کرتے ہیں۔ وہ اسی میں مشغول رہتے ہیں، یہاں تک کہ مرکر خدا کی پکڑ کے مستحق بن جاتے ہیں۔


Connections

Tafsir Notes