Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
أَتَىٰٓ أَمۡرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوهُۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
آ گیا اللہ کا فیصلہ، اب اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ پاک ہے وہ اور بالا تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں
English (Sahih International)
The command of Allah is coming, so be not impatient for it. Exalted is He and high above what they associate with Him
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1 اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ جب ہم نے اپنا رسول بھیج دیا اور اس پر اپنا کلام بھی نازل کرنا شروع کردیا ہے تو گویا فیصلہ کن وقت آن پہنچا ہے۔ اب معاملہ صرف مہلت کے دورانیے کا ہے کہ ہمارے رسول اور ہمارے پیغام کا انکار کرنے والوں کو مشیت الٰہی کے مطابق کس قدر مہلت ملتی ہے۔ بہر حال اب جلدی مچانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کا عذاب بس اب آیا ہی چاہتا ہے ‘ اس کے لیے اب بہت زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 3.
دین کی حقیقت یہ ہے کہ انسان خدا کی ہستی اور کائنات میں اس کی کار فرمائی کو اس طرح جان لے کہ ایک خدا کی ذات ہی اس کو سب کچھ نظر آنے لگے۔ اسی سے وہ ڈرے اور اسی سے وہ ہر قسم کی امید رکھے۔ ایک خدا اس کے قلب و دماغ کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔
یہی اللہ کو الٰہ بنانا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔ انسانوں کے اندر یہی کیفیت پیدا کرنے کے لیے تمام پیغمبر اس دنیا میں آئے ۔ جو لوگ اس عبدیت کا ثبوت دیں وہ فیصلہ کے دن کامیاب ٹھہریں گے۔ جو لوگ اس کے خلاف چلیں وہ فیصلہ کے دن نامراد ہوجائیںگے۔ یہ فیصلہ عام انسانوں کے لیے قیامت میں ہوگا۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین کے لیے وہ اسی دنیاسے شروع ہوجاتاہے۔
کائنات میں مکمل وحدت ہے اور اسی کے ساتھ مکمل مقصدیت بھی۔ کائنات کی وحدت اس سے انکار کرتی ہے کہ یہاں ایک خدا کے سوا کسی اورکو مرکز توجہ بنانا کسی کے لیے جا ئز ہو۔ اور اس کی مقصدیت تقاضا کرتی ہے کہ اس کا خاتمہ ایک بامعنیٰ انجام پر ہونا چاہیے، نہ کہ بے معنی انجام پر۔ گویا کائنات کا نظام بیک وقت توحید کی دلیل بھی فراہم کرتا ہے اور آخرت کی دلیل بھی۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 16_2
- Thematic: (add links here)