Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 15:89 Prev 15:87


Arabic

لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تم اُس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ اِن کے حال پر اپنا دل کڑھاؤ انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو


English (Sahih International)

Do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to [certain] categories of the disbelievers, and do not grieve over them. And lower your wing to the believers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 88 لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ ابوجہل کی دولت و شوکت ‘ ولید بن مغیرہ کے باغات اور ان جیسے دوسرے کافروں کی جاگیریں آپ کو ہرگز متاثر نہ کریں۔ آپ ان کی ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر دنیا و ما فیہا کی حیثیت اللہ کی نگاہ میں مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی تک نہ دیتا۔ چناچہ ان کفار کو جو مال و متاع اس دنیا میں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کچھ اہمیت نہیں ہے۔ اہل ایمان کو بھی چاہیے کہ وہ بھی مال و دولت دنیا کو اسی نظر سے دیکھیں۔ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ یہ لوگ آپ کی دعوت کو ٹھکرا کر عذاب کے مستحق ہو رہے ہیں۔ ان میں آپ کے قبیلے کے افراد بھی شامل ہیں اور ابو لہب جیسے عزیز و اقارب بھی ‘ مگر آپ اب ان لوگوں کے انجام کے بارے میں بالکل پریشان نہ ہوں۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اہل ایمان کے ساتھ آپ شفقت اور مہربانی سے پیش آئیں۔ ان لوگوں میں فقراء و مساکین بھی ہیں اور غلام بھی۔ یہ لوگ جب آپ کے پاس حاضر ہوں تو کمال تواضع سے ان کا استقبال کیجیے اور ان کی دلجوئی فرمائیے۔ اس سے قبل یہی بات اس انداز میں بیان فرمائی گئی ہے : فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ الانعام : 54۔ سورة الشعراء میں بھی اس مضمون کو ان الفاظ میں دہرایا گیا ہے : وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ کہ اہل ایمان جو آپ کی پیروی کر رہے ہیں آپ اپنے کندھے ان کے لیے جھکا کر رکھیے۔ سورة بنی اسرائیل میں والدین کے ادب و احترام کے سلسلے میں بھی یہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ ادب محبت عاجزی اور انکساری کا معاملہ کرے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 15:87.


Connections

  • Previous: 15_87
  • Next: 15_89
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes