Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 15:86 Prev 15:84


Arabic

وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَأٓتِيَةٞۖ فَٱصۡفَحِ ٱلصَّفۡحَ ٱلۡجَمِيلَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہم نے زمین اور آسمان کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ہے، اور فیصلے کی گھڑی یقیناً آنے والی ہے، پس اے محمدؐ، تم (اِن لوگوں کی بیہودگیوں پر) شریفانہ درگزر سے کام لو


English (Sahih International)

And We have not created the heavens and earth and that between them except in truth. And indeed, the Hour is coming; so forgive with gracious forgiveness


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

اس سورة کی آخری پندرہ آیات دعوت دین کے اعتبار سے بہت اہم ہیںآیت 85 وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ یہ کائنات ایک با مقصد تخلیق ہے کوئی کھیل تماشا نہیں۔ ہندو مائتھالوجی کی طرز پر یہ کوئی رام کی لیلا نہیں ہے کہ رام جی جس کو چاہیں راجہ بنا کر تخت پر بٹھا دیں اور جسے چاہیں تخت سے نیچے پٹخ دیں بلکہ یہ کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کی تخلیق با معنی اور با مقصد ہے۔ اس حقیقت کو سورة آل عمران میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ ”اے ہمارے رب ! تو نے یہ کائنات بےمقصد نہیں بنائی تیری ذات اس سے بہت اعلیٰ اور پاک ہے لہٰذا ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔“وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌچونکہ یہ کائنات اور اس کی ہرچیز حق کے ساتھ تخلیق کی گئی ہے لہٰذا اس حق کا منطقی تقاضا ہے کہ ایک یوم حساب آئے ‘ لہٰذا قیامت آکر رہے گی۔ اس کائنات کا بغور جائزہ لینے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس کی تمام چیزیں انسان کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو منطقی سوال اٹھتا ہے کہ پھر انسان کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے ؟ اور انسان کے اندر جو اخلاقی حس پیدا کی گئی ہے ‘ اسے پیدائشی طور پر نیکی اور بدی کی جو تمیز دی گئی ہے یہاں دنیا میں اس سے کیا نتائج بر آمد ہو رہے ہیں ؟ اس دنیا میں تو اخلاقیات کے اصولوں کے برعکس نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہاں چور ڈاکو اور لٹیرے عیش کرتے نظر آتے ہیں اور نیک سیرت لوگ فاقے کرنے پر مجبور ہیں۔ لہٰذا اس صورت حال کا منطقی تقاضا ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہو جس میں ہر شخص کا پورا پورا حساب ہو اور ہر شخص کو ایسا صلہ اور بدلہ ملے جو اس کے اعمال کے عین مطابق ہو۔فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ یہ مجرم لوگ ہماری پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔ قیامت آئے گی اور یہ لوگ ضرور کیفر کردار کو پہنچیں گے ‘ مگر ابھی ہم انہیں ڈھیل دینا چاہتے ہیں مزید کچھ دیر کے لیے مہلت دینا چاہتے ہیں۔ چناچہ آپ فی الحال ان کی دل آزار باتیں برداشت کریں ‘ ان کی معاندانہ سرگرمیوں کے جواب میں صبر کریں اور احسن انداز میں اس سب کچھ کو نظر انداز کردیں۔ اسّ رویے اور ایسے طرز عمل سے آپ کے درجات بلند ہوں گے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 85 and 86.

زمین وآسمان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ پورا نظام حد درجہ حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ یہاں ہر چیز ٹھیک ویسی ہی ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیے۔ اس پورے نظام میں صرف انسان ہے جو خلافِ حقیقت رویہ اختیار کرتاہے۔ انسان اور کائنات میں یہ تضاد تقاضا کرتاہے کہ وہ ختم ہو۔ قیامت کا عقیدہ اس اعتبار سے عین عقلی اور منطقی عقیدہ ہے۔ کیوں کہ قیامت کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے جو اس تضاد کو ختم کرنے والی ہو۔

دعوت الی اللہ کے عمل کا ایک اہم جزء ’’اعراض‘‘ ہے۔ یعنی مخاطب جب غیر متعلق بحث اور جھگڑا چھیڑے تو اس کے ساتھ مشغول ہونے کے بجائے اس سے الگ ہوجانا۔ اعراض کا اصول اختیار کيے بغیر دعوت کا کام موثر طورپر نہیں کیا جاسکتا۔

اعراض کی مصلحت یہ ہے کہ مدعو ہمیشہ داعی سے غیر متعلق جھگڑے چھیڑتا ہے۔ اب اگر داعی یہ کرے کہ ہر ایسے موقع پر مدعو سے لڑ جائے تو غیر متعلق امور پر ٹکراؤ تو خوب ہوگا مگر اصل دعوتی کام بغیر ہوئے پڑا رہ جائے گا۔


Connections

  • Previous: 15_84
  • Next: 15_86
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes