Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِن كَانَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأَيۡكَةِ لَظَٰلِمِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور ایکہ والے ظالم تھے
English (Sahih International)
And the companions of the thicket were [also] wrongdoers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 78 وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ ”اصحاب الایکہ“ سے اہل مدین مراد ہیں۔ یہ حضرت شعیب کی قوم تھی مگر یہاں اس قوم کا ذکر کرتے ہوئے آپ کا نام نہیں لایا گیا۔ ان سب اقوام کا تذکرہ یہاں پر انباء الرسل کے انداز میں ہورہا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 78 to 84.
اصحاب ایکہ سے مراد حضرت شعیب کی قوم ہے۔ اس قوم کا اصل نام بنی مدیان تھا۔ یہ لوگ موجودہ تبوک کے علاقہ میں آباد تھے۔ اصحاب حجر سے مراد قوم ثمود ہے جس کی طرف حضرت صالح مبعوث ہوئے۔ یہ علاقہ موجودہ مدینہ کے شمال میں واقع تھا۔
اصحاب ایکہ کی سرکشی نے ان کو نہ صرف شرک میں مبتلا کیا بلکہ ان کو بدترین اخلاقی جرائم تک پہنچا دیا۔ حضرت شعیب کی یاد دہانی کے باوجود انھوں نے سبق نہیں لیاتو خدا نے زمین کو حکم دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جو زمین ان کے لیے گہوارہ عیش بنی ہوئی تھی، وہی ان کے لیے گہوارۂ عذاب بن گئی۔
قوم ثمود سنگ تراشی کے فن میں ماہر تھے۔ انھوںنے پہاڑوں کو کاٹ کر ان کو شاندار گھروں میں تبدیل کردیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوں نے اپنی حفاظت کا آخری انتظام کرلیا ہے۔ جب انھوں نے خدا کی پکار کو نظر انداز کردیا تو خدا نے حکم دیا اور ان کے عظیم مکانات ان کے لیے عظیم قبروں میں تبدیل ہوگئے۔