Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِي نُزِّلَ عَلَيۡهِ ٱلذِّكۡرُ إِنَّكَ لَمَجۡنُونٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ لوگ کہتے ہیں “اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے، تو یقیناً دیوانہ ہے
English (Sahih International)
And they say, “O you upon whom the message has been sent down, indeed you are mad
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌمعاذ اللہ ! ثم معاذ اللہ ! ! مجنون ”جن“ سے مشتق ہے۔ عربی میں جن کے معنی مخفی چیز کے ہیں۔ اسی معنی میں رحم مادر میں بچے کو جنین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ نظر سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے لفظ ”جنت“ بھی اسی مادہ سے ہے اور اس سے مراد ایسی زمین ہے جو درختوں اور گھاس وغیرہ سے پوری طرح ڈھکی ہوئی ہو۔ سورة الانعام آیت 76 میں حضرت ابراہیم کے تذکرے میں یہ لفظ اس طرح آیا ہے : فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ یعنی جب رات کی تاریکی نے اسے ڈھانپ لیا۔ چناچہ مجنون اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جس پر جن کے اثرات ہوں آسیب کا سایہ ہو اور اس کو بھی جس کا ذہنی توازن درست نہ ہو۔ رسول اللہ کے بارے میں یہ بات وحی کے بالکل ابتدائی دور میں کہی گئی تھی اور اس کے کہنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو اس طرح کے خیالات کا اظہار معاندانہ انداز میں نہیں بلکہ ہمدردی میں کر رہے تھے۔ یعنی جب ابتدا میں حضور نے نبوت کا دعویٰ کیا اور بتایا کہ غار حرا میں ان کے پاس فرشتہ آیا ہے تو بہت سے لوگوں کو گمان ہوا کہ شاید آپ کو کسی بد روح وغیرہ کا اثر ہوگیا ہے۔ چونکہ نبوت ملنے اور فرشتہ کے آنے کا دعویٰ ان کے لیے بالکل نئی بات تھی اس لیے ان کا واقعی یہ خیال تھا کہ اکیلے کئی کئی راتیں غار حرا میں رہنے کی وجہ سے ضرور آپ پر کسی بد روح یا جن کے اثرات ہوگئے ہیں۔ چناچہ سورة نٓ اس کا دوسرا نام سورة القلم بھی ہے جو کہ بالکل ابتدائی دور کی سورة ہے ‘ اس میں ان لوگوں کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا : مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُونٍ ”آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 6 to 8.
پیغمبر کے مخاطبین نے پیغمبر کے اوپر دیوانگی کا شبہ کیا۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ پیغمبر کی دعوت تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ’’میںخدا کا نمائندہ ہوں۔ جو شخص میری بات مانے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص نہیں مانے گا وہ ناکام ہو کر رہ جائے گا‘‘۔مگر یہ مخاطبین عملاً جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ اس کے برعکس تھا۔ ان کا اپنا یہ حا ل تھا کہ ان کو رائج الوقت نظام میں سرداری اور پیشوائی کا مقام حاصل تھا۔ دوسری طرف پیغمبر ایک غیر رواجی دین کا داعی ہونے کی وجہ سے مروجہ نظام میں بے حیثیت اور اجنبی بنا ہوا تھا۔ اس فرق کی بنا پر مخاطبین کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ تم ہم کو دیوانہ معلوم ہوتے ہو۔ ہر قسم کی دنیوی خوبیاںتو خدا نے ہم کو دے رکھی ہیں اور تم کہتے ہو کہ کامیابی تمھارے لیے ہے اور تمھارا ساتھ دینے والوں کے لیے۔مگر یہ ان کے زاویۂ نظر کا فرق تھا ۔ وہ اپنی چیزوں کو ’’انعام‘‘ کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ حالاں کہ یہ تمام چیزیں صرف ’’آزمائش‘‘ کا سامان ہیں جو موجودہ دنیا میں کسی کو وقتی طورپر دی جاتی ہیں۔
وہ یہ بھی کہتے تھے کہ تمھارے دعوے کے مطابق تمھارے پاس خدا کے فرشتے آتے ہیں تو یہ فرشتے ہمیں کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ یہ بھی زاویۂ نظر کے فرق کی بنا پر تھا۔ پیغمبر کے پاس جو فرشتہ آتا ہے وہ وحی کا فرشتہ ہوتا ہے جو خدا کا کلام پیغمبر تک پہنچاتاہے۔ اس کے علاوہ خداکے وہ فرشتے بھی ہیں جو اس لیے آتے ہیں کہ وہ حقیقت کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کردیں ۔ مگر وہ دعوت کی تکمیل کے بعد آتے ہیں اورجب وہ آتے ہیں تو یہ فیصلہ کرنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ایمان کی طرف بلانے کا۔